چین کے صدر شی جن پنگ 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر بھارت آنے والے شی جن پنگ کا یہ تقریباً 7 سال بعد پہلا بھارت دورہ ہوگا۔ ان کے دورے کو بھارت اور چین کے درمیان تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ دورانِ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون بڑھانے کے ساتھ ساتھ کئی دیگر اہم امور پر بات چیت متوقع ہے۔ دونوں ممالک حالیہ برسوں میں تعلقات میں آنے والی بہتری کو آگے بڑھاتے ہوئے اقتصادی اور عملی تعاون کے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔
بیجنگ میں بھارتی سفارتخانے کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 26-2025 میں بھارت اور چین کے درمیان دو طرفہ تجارت 151.10 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 18.31 فیصد زیادہ ہے۔ اس دوران چین کو بھارت کی برآمدات 36.62 فیصد بڑھ کر 19.47 ارب ڈالر ہو گئیں، جبکہ چین سے بھارت کی درآمدات 16.03 فیصد اضافے کے ساتھ 131.63 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ تجارت میں اس تیز رفتار اضافے سے دونوں ممالک کے درمیان مزید تجارتی مواقع تلاش کرنے کی بنیاد مضبوط ہوئی ہے۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے جولائی میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت ’نئی بلندی‘ پر پہنچ گئی ہے اور اقتصادی و تجارتی شعبوں میں مزید مضبوط تعاون کی اپیل کی تھی۔
برکس اجلاس سے تعلقات کو مل سکتی ہے نئی رفتار
وزیر اعظم نریندر مودی اور شی جن پنگ نے اپنی گزشتہ ملاقات میں دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ تجارتی خسارے کو کم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے عالمی تجارت کو مستحکم کرنے میں بھارت اور چین کے کردار کو تسلیم کیا تھا۔ چین کی جانب سے بھی دونوں ممالک کے تعلقات کو تعمیری سمت میں آگے بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق شی جن پنگ اور وزیر اعظم مودی بھارت اور چین کو ’شراکت دار‘ سمجھتے ہیں، ’حریف‘ نہیں۔
برکس پلیٹ فارم بھارت اور چین کو تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور عالمی سپلائی چین جیسے شعبوں میں مشترکہ طور پر کام کرنے کا ایک اور موقع فراہم کر سکتا ہے۔ بھارت کی برکس صدارت کے اقتصادی ایجنڈے میں تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا، عالمی ویلیو چین کو مضبوط بنانا اور رکن ممالک کی معیشتوں میں کاروباری مواقع کو بہتر بنانا شامل ہے۔
برکس اکنامک پارٹنرشپ 2030 پر پیش رفت
جے پور میں منعقدہ برکس ٹریڈ منسٹرز کی میٹنگ میں رکن ممالک نے ’برکس اکنامک پارٹنرشپ 2030‘ کی حکمت عملی کی سمت میں کام آگے بڑھایا۔ اجلاس میں خدمات کے شعبے میں تجارت بڑھانے اور مزید مضبوط اور متنوع عالمی ویلیو چین کی حمایت پر بھی زور دیا گیا۔ شی جن پنگ کا بھارت دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب نئی دہلی اور بیجنگ اعلیٰ سطحی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے اور عملی تعاون کے دائرے کو وسیع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے میں برکس سربراہی اجلاس دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی سمت دینے کے لیے اہم پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے۔
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







