نئی دہلی : جولائی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور طلبہ احتجاج کا حصہ رہنے والی 14 سالہ لڑکی کو دھمکانے اور اس کے گھر پر پتھراؤ کیے جانے کے الزامات کو سپریم کورٹ نے سنجیدگی سے لیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے اس معاملے میں اتر پردیش اور دہلی سے اسٹیٹس رپورٹ طلب کی ہے۔طلبہ احتجاج سے متعلق معاملے کی سماعت کے دوران ایک وکیل نے عدالت میں یہ مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ایک شخص نے کچھ ویڈیوز میں دعویٰ کیا کہ اس نے سی جے پی کے احتجاج کے دوران لڑکی کے والد پر حملہ کیا تھا۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد اس شخص کو گرفتار بھی کیا گیا ہے، لیکن اب لڑکی کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
سوتنتر بھاردواج نے کیا تھا دعویٰ
سوتنتر بھاردواج نامی شخص نے ایک پوڈکاسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے سی جے پی کی کارکن کے والد کی پٹائی کی تھی۔ وکیل کے مطابق اس وقت پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔ سی جے پی کے احتجاج کے بعد دہلی پولیس نے اسے گرفتار کرلیا اور فی الحال وہ عدالتی حراست میں ہے۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لڑکی کے گھر پر پتھراؤ کیے جانے کی ویڈیوز بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر لڑکی کو کسی طرح کا نقصان پہنچتا ہے تو بعد میں اس کی تلافی ممکن نہیں ہوگی۔ وکیل نے یہ الزام بھی لگایا کہ پتھراؤ میں شامل افراد کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ اس کے بجائے بچی اور اس کے اہل خانہ کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
احتجاج کے دوران حملے کا بھی الزام
وکیل نے معاملہ عدالت کے سامنے رکھتے ہوئے یہ الزام بھی لگایا کہ جن لوگوں نے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران حملہ کیا تھا، انہیں بعد میں 4 پولیس اہلکاروں کے ساتھ دیکھا گیا۔ وکیل کے مطابق اس بات کے ثبوت کے طور پر ویڈیوز بھی موجود ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا- بچے کی حفاظت ضروری
ان الزامات کو سننے کے بعد چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ بچہ تو بچہ ہی ہے اور اس کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کیے جانے چاہئیں۔چیف جسٹس نے کہا، ’’اگر سماج دشمن عناصر نے بچوں کے خلاف تشدد کیا ہے اور وہ اب بھی آزاد ہیں اور اسے ڈرانے دھمکانے کی کوشش کررہے ہیں تو یہ سنگین معاملہ ہے۔‘‘عدالت میں سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ انہیں سوشل میڈیا پر لڑکی کی جانب سے کی گئی پوسٹس کے ذریعے اس معاملے کی اطلاع ملی ہے۔اس کے بعد عدالت نے کہا کہ بچی کی جانب سے درج ایف آئی آر میں کارروائی ہونی چاہیے۔ عدالت نے اس کی اور اس کے خاندان کی حفاظت یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ سپریم کورٹ نے اتر پردیش اور دہلی حکومت سے اس معاملے پر رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







