
ماچل پردیش کے کُلو ضلع کی کھراہل وادی میں واقع سرکاری ہائی اسکول چنساری کی نامکمل عمارت نے حکومت کے تعلیمی اور ترقیاتی دعووں پر سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ اسکول کی نئی عمارت کی تعمیر سال 2019 میں شروع ہوئی تھی، لیکن تقریباً سات سال گزرنے کے باوجود یہ کام مکمل نہیں ہوسکا ہے۔ 2023 میں شدید بارش اور قدرتی آفت کے دوران اسکول کی پرانی عمارت کو بھی بھاری نقصان پہنچا تھا۔ ایسے میں اب اسکول میں زیر تعلیم 100 سے زائد طلبہ کے سامنے پڑھائی کے لیے مناسب جگہ کا سنگین مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ چنساری اسکول میں تین پنچایتوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان میں بندل پنچایت کے بندل اور ہلینی، سیوگی پنچایت کے سیوگی، جبکہ چنساری پنچایت کے دھارٹھ، چنساری، پیچھا، ماہیش اور اپر تھرکو گاؤں کے طلبہ شامل ہیں۔ پرانی عمارت کو نقصان پہنچنے کے بعد اسکول انتظامیہ کمیٹی نے ایک نجی عمارت میں بچوں کی جماعتیں چلانے کا انتظام کیا تھا، لیکن اب اس عمارت کے ساتھ کیا گیا معاہدہ بھی ختم ہوچکا ہے۔
ایک ہی کمرے میں کئی جماعتیں چلانے پر مجبور
اسکول انتظامیہ کمیٹی کے صدر دیویندر شرما نے بتایا کہ اسکول کی نئی عمارت کی تعمیر کا ٹھیکہ تقریباً 1.18 کروڑ روپے میں دیا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود تعمیراتی کام اب تک مکمل نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ اگر محکمہ تعلیم نے جلد کارروائی نہیں کی تو آنے والے دنوں میں بچوں کی جماعتیں چلانا بھی مشکل ہوجائے گا۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اسکول کی نئی عمارت کی تعمیر جلد از جلد مکمل کرائی جائے۔ اس معاملے کو لے کر اسکول انتظامیہ کمیٹی اور مقامی باشندوں کے ایک وفد نے کُلو کے ڈپٹی کمشنر سے بھی ملاقات کی تھی۔ دیہاتیوں نے انتظامیہ کے سامنے اسکول کی عمارت کی تعمیر فوری مکمل کرانے کا مطالبہ رکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایک ہی کمرے میں دو، بلکہ بعض اوقات تین جماعتیں ایک ساتھ چلانی پڑ رہی ہیں، جس سے طلبہ کی تعلیم بری طرح متاثر ہورہی ہے۔
آفت کے بعد سے مشکلات میں اضافہ
مقامی باشندے شیتو شرما نے بتایا کہ قدرتی آفت کے بعد سے ہی اسکول کی عمارت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے انتظامیہ سے کئی بار درخواست کی جاچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو پڑھائی کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ایک ہی کمرے میں کئی جماعتیں چلانے کی وجہ سے تعلیمی ماحول بھی متاثر ہورہا ہے۔ دیہاتیوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ بچوں کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکول کی نئی عمارت کی تعمیر کا کام جلد مکمل کیا جائے، تاکہ طلبہ کو مناسب تعلیمی سہولیات حاصل ہوسکیں۔
دوبارہ شروع ہوا تعمیراتی کام، جلد تکمیل کی امید
اسکول کے استاذ بھال چند شاستری نے بتایا کہ پرانی عمارت کو نقصان پہنچے کئی سال گزرچکے ہیں۔ نئی عمارت کی تعمیر کا کام بھی طویل عرصے تک بند رہا، تاہم اب اسے دوبارہ شروع کردیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تعمیراتی کام جلد مکمل ہوجائے گا اور بچوں کو بہتر تعلیمی ماحول میسر آسکے گا۔ فی الحال اسکول انتظامیہ محدود وسائل کے باوجود بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کی کوشش کررہی ہے، لیکن عمارت کی تعمیر میں تاخیر نے طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






