
نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے شمالی بنگال کے اپنے دورے کے تیسرے اور آخری دن ہفتہ کو دارجلنگ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع سُکنا کے ایک ہوٹل میں پہاڑی لیڈروں کے ساتھ اہم میٹنگ کی۔ میٹنگ میں پہاڑی علاقوں سے جڑے کئی پرانے مسائل اور مطالبات کے حل پر بات چیت ہوئی۔ اس موقع پر مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری اور پہاڑی علاقوں کے کئی لیڈر بھی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق میٹنگ میں آئینی دائرے کے اندر دارجلنگ کی پہاڑیوں کے دیرینہ مسائل کا ’مستقل سیاسی حل‘ تلاش کرنے کے معاملے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
گورکھا کمیونٹی کے مستقل سیاسی حل پر توجہ
میٹنگ میں بی جے پی کے انتخابی وعدے کے تحت گورکھا کمیونٹی اور پہاڑی علاقوں کے دیگر باشندوں کے لیے مستقل سیاسی حل کے معاملے پر خصوصی طور پر تبادلہ خیال کیے جانے کی بات کہی جا رہی ہے۔ گورکھا کمیونٹی اور علاقے کے لوگ کئی دہائیوں سے الگ گورکھالینڈ ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ سابقہ ریاستی حکومتوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے دارجلنگ گورکھا ہل کونسل (ڈی جی ایچ سی) اور گورکھالینڈ ٹیریٹوریل ایڈمنسٹریشن (جی ٹی اے) جیسے انتظامات کیے، لیکن ان اقدامات کے باوجود علاقے میں طویل مدتی امن، معاشی خوشحالی اور سیاسی استحکام یقینی نہیں بنایا جا سکا۔
پہاڑی علاقوں کے مسائل حل کرنے کے لیے کمیٹی
میٹنگ کے بعد دارجلنگ کے رکن پارلیمنٹ راجو بستا نے بتایا کہ پہاڑی علاقوں کے پرانے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ پنکج کمار سنگھ اس کمیٹی میں ثالث کا کردار ادا کریں گے۔ انہیں اس سے قبل بھی مرکزی حکومت کی جانب سے یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ کمیٹی میں پہاڑی علاقوں کے سیاسی اور سماجی لیڈروں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ یہ کمیٹی علاقے کے مختلف مسائل، مطالبات اور ان سے متعلق معاملات کا جائزہ لے کر انہیں حل کرنے کی سمت میں کام کرے گی۔
گورکھالینڈ کے مطالبے پر لیڈروں نے اختیار کی خاموشی
الگ گورکھالینڈ ریاست کے مطالبے کے حوالے سے راجیہ سبھا رکن ہرش وردھن شرنگلا نے فی الحال کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر ابھی کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ میٹنگ میں شریک دیگر لیڈروں کی جانب سے بھی گورکھالینڈ کے مطالبے پر کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔ تاہم میٹنگ کے بعد خصوصی کمیٹی کے قیام کے اعلان نے پہاڑی علاقوں کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
آئینی دائرے میں تلاش کیا جائے گا حل
گورکھا جن مکتی مورچہ کے لیڈر روشن گیری نے بھی کہا کہ مرکزی حکومت کے سامنے پہاڑی علاقوں کے مسائل رکھنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی کے ذریعے علاقے کے پرانے مطالبات اور مسائل کو مرکزی حکومت تک پہنچایا جائے گا اور آئینی اصولوں کے مطابق حل تلاش کیا جائے گا۔ اب دارجلنگ اور پہاڑی علاقوں کے سیاسی حلقوں کی نظریں اس نئی کمیٹی پر مرکوز ہیں۔ دیکھنا ہوگا کہ یہ کمیٹی علاقے کے دیرینہ مسائل اور گورکھا کمیونٹی کے مطالبات کے مستقل سیاسی حل کی سمت میں کتنی پیش رفت کر پاتی ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






