
ئی دہلی :دہلی میں موسمی بیماریوں اور H1N1 انفلوئنزا کے بڑھتے ہوئے معاملات کے درمیان صحت کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا کی صدارت میں ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں دہلی حکومت کی تیاریوں، اسپتالوں میں دستیاب سہولیات اور موسمی و مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔میٹنگ میں دہلی کے وزیر صحت ڈاکٹر پنکج کمار سنگھ نے بتایا کہ سال 2026 کے دوران اب تک دارالحکومت میں انفلوئنزا-اے کے 2,392 کیسز سامنے آچکے ہیں۔ ان میں H1N1 کے 1,777 معاملات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ H1 کے 37، H3 کے 138 اور دیگر اقسام کے 440 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ بعض مریضوں میں بیماری کی شدت بڑھنے پر آکسیجن لیول گرنے اور سانس لینے میں دشواری جیسے مسائل بھی سامنے آسکتے ہیں۔
مریضوں کی مسلسل نگرانی کی ہدایت
ڈاکٹر پنکج کمار سنگھ نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے دہلی کا صحت نظام پوری طرح تیار ہے۔ ان کے مطابق اسپتالوں میں بستروں، ڈاکٹروں، ادویات اور ضروری طبی آلات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ مریضوں کو بروقت جانچ اور علاج فراہم کرنے کے لیے صحت کے نظام کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے۔دہلی اسٹیٹ ہیلتھ مشن کے تحت انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس پروگرام کے ذریعے ILI، SARI اور انفلوئنزا کے معاملات پر روزانہ نظر رکھی جارہی ہے۔ اسپتالوں اور ضلعی سطح کے صحت حکام کو اسکریننگ، رپورٹنگ اور مریضوں کی نگرانی کے لیے ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
ڈینگی، ملیریا اور چکن گنیا کے کیسز بھی بڑھے
میٹنگ میں ڈینگی، ملیریا اور چکن گنیا کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دہلی میں اب تک ڈینگی کے 246، ملیریا کے 80 اور چکن گنیا کے 19 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ راحت کی بات یہ ہے کہ ان تینوں بیماریوں سے اب تک کسی موت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔صحت محکمہ کی جانب سے علاج، مریضوں کی درجہ بندی، وینٹی لیٹر مینجمنٹ، ماسک کے استعمال اور ہوم کیئر سے متعلق رہنما ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔ طبی عملے کو علامات کی بروقت شناخت اور مریضوں کے فالو اَپ کے حوالے سے تربیت دی جارہی ہے۔
2.38 کروڑ گھروں کا سروے
مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام کے لیے مقامی اداروں نے ویکٹر کنٹرول مہم کے تحت اب تک 2.38 کروڑ گھروں کا دورہ کیا ہے۔ تقریباً 3.20 لاکھ گھروں میں اسپرے کیا گیا، جبکہ 91,217 گھروں میں مچھروں کی موجودگی پائی گئی۔ قوانین کی خلاف ورزی پر 74,591 قانونی نوٹس جاری کیے گئے اور 6,724 معاملات میں کارروائی کی گئی۔دہلی میں بیماریوں کی نگرانی کے لیے 35 سینٹینل سرویلنس اسپتال موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ایمس اور نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول میں دو اعلیٰ سطحی ریفرل لیبارٹریز اور مولانا آزاد میڈیکل کالج میں ملیریا ریفرنس لیب کام کررہی ہے۔
H1N1 کی علامات کیا ہیں؟
H1N1 میں اچانک تیز بخار، خشک کھانسی، جسم میں درد، سر درد، گلے میں خراش، کپکپی اور شدید تھکن جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔ بعض مریضوں میں سانس لینے میں دشواری اور آکسیجن لیول گرنے کا مسئلہ بھی ہوسکتا ہے۔ سانس پھولنے، سینے میں درد، مسلسل تیز بخار، الجھن یا ہونٹ نیلے پڑنے جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔بزرگوں، چھوٹے بچوں، حاملہ خواتین اور ذیابیطس، دل یا پھیپھڑوں کی دائمی بیماری یا کمزور قوت مدافعت رکھنے والے افراد میں سنگین بیماری کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔ حکام نے لوگوں سے گھبرانے کے بجائے احتیاط برتنے اور علامات ظاہر ہونے پر بروقت طبی مشورہ لینے کی اپیل کی ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






