
وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو 7، لوک کلیان مارگ واقع اپنی رہائش گاہ پر حکومتِ ہند کے سینئر سیکریٹریز کے ساتھ اعلیٰ سطحی میٹنگ کی۔ اس نوعیت کی یہ تیسری میٹنگ تھی۔ اجلاس میں بنیادی ڈھانچے، کنیکٹیویٹی، سکیورٹی، خارجہ پالیسی اور گڈ گورننس سے متعلق وزارتوں اور محکموں کے آئندہ کے کام کاج پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔میٹنگ میں پی ایم مودی نے افسران سے کہا کہ حکومت کا کام صرف آج کے مسائل حل کرنے یا اعداد و شمار کا جائزہ لینے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ افسران کو آنے والے برسوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل مدتی سوچ کے ساتھ پالیسیاں اور منصوبے تیار کرنے چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کی ترقی کی سمت طے کرنے کے لیے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنا ضروری ہے۔
محکموں کے درمیان تال میل بڑھانے پر زور
وزیراعظم نے سرکاری محکموں کے درمیان کام کرنے کے مختلف طریقوں اور باہمی تال میل کی کمی کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف نظام کا نہیں بلکہ سوچ کا بھی ہے۔ مختلف وزارتوں کو اپنے اپنے دائرے تک محدود رہنے کے بجائے مل کر کام کرنا ہوگا۔پی ایم مودی نے کووڈ وبا اور مغربی ایشیا کے بحران کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مشکل وقت میں مختلف وزارتوں نے بہتر تال میل کے ساتھ کام کیا۔ اسی طرح کے ٹیم اسپرٹ کو روزمرہ کے سرکاری کام کاج کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔
اے آئی کے ساتھ انسانی سمجھ بھی ضروری
میٹنگ میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے استعمال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کو اے آئی کا زیادہ مؤثر استعمال کرنا چاہیے، لیکن حتمی فیصلوں میں انسانی فہم اور ماہرین کی مہارت کا کردار برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے اے آئی اور انسانی تجربے کو ساتھ لے کر نئے حل تلاش کرنے پر زور دیا۔
ڈیٹا کو مستقبل کی بڑی طاقت قرار دیا
پی ایم مودی نے ڈیٹا کو ملک کا اہم اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس کے جمع کرنے، تحفظ اور انتظام پر کافی وسائل خرچ کرتی ہے۔ اس کے باوجود مختلف محکموں میں بٹے ہوئے نظام کی وجہ سے ڈیٹا کا مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ انہوں نے محکموں کے درمیان ڈیٹا شیئر کرنے اور مختلف سسٹمز کو آپس میں مربوط کرنے پر زور دیا۔





