اپنی سزائیں پوری کرچکے سکھ قیدیوں، جنہیں ’’بندی سنگھ‘‘ کہا جاتا ہے، کی رہائی کے مطالبے کو لے کر جمعہ کے روز پورے پنجاب میں ہلچل مچ گئی۔ قومی انصاف مورچہ کے اعلان پر آج پنجاب بھر میں صبح 7 بجے سے دوپہر 2 بجے تک ’’بند‘‘ رکھا گیا۔ اس دوران امرتسر سے لے کر موہالی تک ہائی وے، بازار، بس اسٹینڈ اور نجی اسکول مکمل طور پر بند نظر آئے۔ بند کا سب سے زیادہ اثر چندی گڑھ-موہالی سرحد پر دیکھنے کو ملا، جہاں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ آخر وہ کون سے قیدی ہیں جن کی رہائی کے مطالبے کو لے کر پنجاب کی سڑکوں پر اتنا شدید احتجاج دیکھنے کو مل رہا ہے؟
کن قیدیوں کی رہائی پر بضد ہے مورچہ؟
اس بند اور احتجاج کے مرکز میں ان سکھ قیدیوں کی رہائی کا مسئلہ ہے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی عمر قید یا مقررہ سزا مکمل کرچکے ہیں، لیکن اس کے باوجود اب بھی جیلوں میں بند ہیں۔ان میں سب سے بڑا نام جگتار سنگھ حوالہ کا ہے، جو سابق وزیراعلیٰ بےانت سنگھ کے قتل کے معاملے میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔ مورچے کا مطالبہ ہے کہ حوالہ کو پیرول دی جائے، جس کی حال ہی میں وزیراعلیٰ بھگونت مان نے بھی حمایت کی ہے۔ حوالہ کے علاوہ بلونت سنگھ راجوانہ، پرمجیت سنگھ بھورا اور جگتار سنگھ تارا جیسے قیدیوں کی رہائی یا سزا میں رعایت کا مطالبہ بھی زور و شور سے اٹھایا جا رہا ہے۔
اچانک بند کیوں بلایا گیا؟
بندی سنگھوں کی رہائی کے مطالبے کو لے کر قومی انصاف مورچے کا دھرنا موہالی-چندی گڑھ سرحد پر 7 جنوری 2023 سے جاری ہے۔ تاہم اس تحریک نے اس وقت شدت اختیار کرلی جب 15 اگست، یوم آزادی کے موقع پر چندی گڑھ میں مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا۔اسی پولیس کارروائی کے خلاف مورچے نے جمعہ کو پنجاب بند کا اعلان کیا، جسے ایس جی پی سی، شرومنی اکالی دل، کسان تنظیموں اور ملازمین کی یونینوں کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔
امرتسر بس اسٹینڈ پر سناٹا، امتحانات بھی منسوخ
بند کے باعث عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔ امرتسر بس اسٹینڈ، جہاں روزانہ ہزاروں افراد کی بھیڑ رہتی ہے، آج سنسان نظر آیا۔ بسیں نہ چلنے کی وجہ سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔نجی اسکولوں کی تنظیموں نے احتیاطی طور پر اسکول بند رکھے، جبکہ پنجاب یونیورسٹی نے آج ہونے والے تمام امتحانات منسوخ کردیئے ہیں۔ یہ امتحانات اب 10 ستمبر کو منعقد ہوں گے۔
ہنگامی خدمات کو بند سے مستثنیٰ رکھا گیا
پورے بند کے دوران مورچے نے واضح کیا تھا کہ وہ عام لوگوں کو پریشان نہیں کرنا چاہتا۔ اسی لیے طبی ہنگامی صورتحال، اسپتالوں، ایمبولینس، آخری رسومات، ایئرپورٹ جانے والے مسافروں اور شادی کی تقریبات کو بند سے مکمل طور پر مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔ فی الحال پولیس اور انتظامیہ الرٹ پر ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب چندی گڑھ میں واقع بی جے پی دفتر کو بم سے اڑانے کی دھمکی بھی موصول ہوئی ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ اس بڑے احتجاج کے بعد حکومت بندی سنگھوں کی رہائی کے معاملے پر کیا قدم اٹھاتی ہے۔






