
نئی دہلی: 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے معاملے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے کانگریس کے سابق رہنما اور رکن پارلیمنٹ سجن کمار کا 84 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ وہ گزشتہ تقریباً 7 سال سے دہلی کی تہاڑ جیل میں قید تھے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق انہیں دہلی کے صفدرجنگ اسپتال لایا گیا، جہاں انہیں مردہ قراردیا گیا۔
سجن کمار کو 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے متعلق ایک معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے 17 دسمبر 2018 کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ انہوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، لیکن عدالت نے ان کی اپیل مسترد کردی۔ 27 اپریل 2022 کو انہیں فسادات سے متعلق ایک معاملے میں ضمانت مل گئی تھی، تاہم ایک دوسرے معاملے میں سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے وہ جیل سے باہر نہیں آ سکے اور تہاڑ جیل میں ہی قید رہے۔
7 سال سے تہاڑجیل میں تھے سجن کمار
سجن کمارگزشتہ 7 برس سے دہلی کی تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق انہیں صفدرجنگ اسپتال لایا گیا، لیکن اس وقت تک ان کی موت ہوچکی تھی۔ اپریل 2026 میں سجن کمارنے اپنی بیماراہلیہ سے ملاقات کے لیے سپریم کورٹ سے ضمانت کی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے انہیں ضمانت دینے سے انکار کردیا تھا۔
1984 کے فسادات میں عمر قید کی سزا
کانگریس کے سابق رہنما سجن کمار کو 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے متعلق معاملے میں قصوروارقراردیا گیا تھا۔ عدالت نے انہیں جسونت سنگھ اوران کے بیٹے تروندیپ سنگھ کے قتل میں کردارادا کرنے اوربھیڑکوان کے خاندان کونشانہ بنانے کے لیے اکسانے کا مجرم قراردیا تھا۔ سجن کمارتین مرتبہ رکن پارلیمنٹ رہ چکے تھے۔ عدالت کی جانب سے فسادات کے معاملے میں عمر قید کی سزا سنائے جانے کے بعد انہوں نے کانگریس کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔






