
ذہبی مقدس مقامات کسی معاشرے کی زندگی میں صرف اینٹ، پتھر اور چونے سے بنی ہوئی عمارتیں نہیں ہوتے ہیں بلکہ مسجد کی اذان، مدرسے کی درس گاہ، درگاہ کی خاموش فضا، خانقاہ کی روحانی مجلس، مندر کی گھنٹی، چرچ کی عبادت، گردوارے کی خدمت اور دوسرے مذہبی مراکز انسانی زندگی کے ان گوشوں سے وابستہ ہوتے ہیں جہاں عقیدہ، تہذیب، روایت اور اجتماعی یادیں ایک دوسرے سے مربوط ہوتی ہیں۔ کسی بستی میں ایک مذہبی مقام اگر کئی نسلوں سے قائم ہو تو وہ وہاں رہنے والوں کے لیے محض زمین پر بنی ہوئی ایک عمارت نہیں رہتا بلکہ ان کی روزمرہ زندگی اور اجتماعی حافظے کا حصہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے جب کسی مسجد، مدرسے، مندر، چرچ، گردوارے، درگاہ یا خانقاہ کی زمین کے بارے میں سوال اٹھتا ہے تو اس مسئلے کو صرف زمین کے ایک ٹکڑے کی ملکیت کے سوال تک محدود کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے ،اس کے ساتھ قانون بھی وابستہ ہے، تاریخ بھی، لوگوں کی وابستگی بھی اور ریاست کی ذمہ داری بھی۔ لیکن اس کے ساتھ ایک بنیادی حقیقت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ مذہبی تقدس قانون کی ذمہ داری سے الگ نہیں ہوتا۔ مذہبی اداروں کا احترام اپنی جگہ، اور زمین کے حقوق اور قانونی تقاضوں کا احترام اپنی جگہ، اصل دانش مندی دونوں کے درمیان ایسا راستہ اختیار کرنے میں ہے جہاں نہ مذہبی جذبات مجروح ہوں اور نہ قانون کی حرمت متاثر ہو۔
ہندوستان کی تاریخ میں زمین کے معاملات ہمیشہ موجودہ دور کے دفتری نظام کی طرح یکساں اور مکمل طریقے سے درج نہیں ہوتے رہے ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں اور پرانی بستیوں میں زمین کے استعمال، رہائش، عبادت گاہوں اور عوامی ضرورتوں سے متعلق فیصلے کئی مرتبہ مقامی سطح پر ہوتے تھے۔ آزادی سے پہلے کے زمانے میں بھی اور آزادی کے ابتدائی برسوں میں بھی بہت سی بستیوں میں مقامی مکھیا، پردھان، سرپنچ یا دوسرے بااثر و ذمہ دار افراد کسی زمین کے استعمال یا کسی ادارے کے قیام کے بارے میں تحریری تصدیق یا کاغذ فراہم کرتے تھے۔ بعض جگہ مقامی لوگوں کی گواہی، پنچایت کے ریکارڈ یا ایسے کاغذات ہی کسی ادارے کے طویل عرصے سے قائم ہونے کی عملی شہادت بن جاتے تھے۔ آج جب زمین کے معاملات جدید قانونی ریکارڈ کی روشنی میں دیکھے جاتے ہیں تو پرانے مذہبی اداروں کے بارے میں یہ سوال بھی سامنے آتا ہے کہ ان کے قیام کے وقت جو مقامی طریقے رائج تھے، ان کی تاریخی حیثیت کو موجودہ قانونی تقاضوں کے ساتھ کس طرح جوڑا جائے۔
اسی وجہ سے اگر کوئی مسجد، مدرسہ، مندر، چرچ، گردوارہ، درگاہ یا خانقاہ پچاس، سو یا اس سے بھی زیادہ برس سے کسی جگہ قائم ہے تو اس کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت صرف آج کے کاغذ کو دیکھ لینا کافی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ وہ کب قائم ہوا، کس مقصد کے لیے قائم ہوا، اس زمین کا اس وقت کیا استعمال تھا، مقامی سطح پر اس کے بارے میں کیا ریکارڈ یا شہادت موجود ہے، وہاں کتنے عرصے سے عبادت یا مذہبی سرگرمی جاری ہے اور وقت کے ساتھ اس ادارے نے مقامی معاشرے میں کیا حیثیت اختیار کی۔ کسی قدیم مذہبی مقام کے کاغذات میں کمی ہو سکتی ہے، لیکن ہر کاغذی کمی لازما بدنیتی یا جان بوجھ کر کیے گئے قبضے کی علامت نہیں ہوتی۔ اسی طرح صرف قدامت بھی ہر قانونی سوال کو ختم نہیں کر دیتی۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہر معاملے کو اس کی اپنی تاریخ، شواہد اور موجودہ قانونی حیثیت کے ساتھ دیکھا جائے۔ انصاف ہمیشہ دو انتہاؤں کے درمیان ایک سنجیدہ راستہ تلاش کرتا ہے؛ نہ ہر پرانی چیز کو محض پرانا ہونے کی وجہ سے درست قرار دیتا ہے اور نہ ہر پرانے کاغذ کو نظر انداز کرکے تاریخ کو بے معنی بنا دیتا ہے۔
یہاں مذہبی اداروں کی اپنی ذمہ داری بھی اہم ہو جاتی ہے۔ مسجد، مدرسہ، مندر، چرچ، گردوارہ، درگاہ یا خانقاہ، سب کے ذمہ داران کو چاہیے کہ زمین کی ملکیت یا حقِ استعمال واضح رکھیں، پرانے کاغذات محفوظ کریں اور جہاں ضروری ہو قانونی اجازت اور اندراج مکمل کریں۔ خصوصاً نئے مذہبی اداروں کے قیام کے وقت یہ احتیاط بہت سے آئندہ مسائل سے بچا سکتی ہے۔ چند دستاویزات کی بروقت تکمیل مستقبل کے بڑے تنازع کو روک سکتی ہے۔ مذہبی خدمت کا حسن بھی یہی ہے کہ اس کی بنیاد امانت، دیانت اور ذمہ داری پر قائم ہو۔مسجد کا قیام مسلمانوں کے لیے محض سماجی ضرورت نہیں بلکہ دینی عمل بھی ہے، اس لیے اس کے لیے زمین کے حق اور ملکیت کا واضح ہونا بھی اہم ہے۔ اسلامی تعلیمات عبادت کے ساتھ حقوق العباد، امانت اور انصاف کی پابندی کا درس دیتی ہیں، لہٰذا کسی دوسرے کی ملکیت یا ایسی زمین جس کے استعمال کی قانونی اجازت حاصل نہ ہو، اس پر مسجد قائم کرنا مناسب نہیں۔ سرکاری زمین کے معاملے میں بھی متعلقہ قانونی تقاضوں اور اجازت کا خیال رکھنا چاہیے۔ مقصد مذہبی جذبے کو محدود کرنا نہیں، بلکہ یہ شعور پیدا کرنا ہے کہ نیک مقصد کی تکمیل بھی حق، امانت اور انصاف کے ساتھ ہونی چاہیے۔
یہ اصول صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ مندر، چرچ، گردوارہ، درگاہ، خانقاہ، مدرسہ اور دوسرے مذہبی مراکز بھی اپنی زمین اور قانونی حیثیت کے بارے میں اسی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ مذہبی ادارہ خواہ کسی بھی عقیدے سے تعلق رکھتا ہو، اس کی انتظامیہ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ مذہبی خدمت اور قانونی ذمہ داری ایک دوسرے سے متصادم چیزیں نہیں ہیں۔ ایک مذہبی مقام اگر قانونی طور پر واضح زمین پر قائم ہو، اس کے کاغذات محفوظ ہوں اور اس کے انتظام میں شفافیت ہو تو وہ آنے والی نسلوں کے لیے زیادہ مضبوط بنیاد چھوڑتا ہے۔ اس کے برعکس اگر زمین کی حیثیت غیر واضح رہے اور برسوں تک اس معاملے کو نظر انداز کیا جاتا رہے تو ایک دن وہی خاموشی کسی بڑے تنازع کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ آج کی تھوڑی سی احتیاط کل کی بہت سی تلخیوں کو روک سکتی ہے۔
اس سلسلے میں مسلم تنظیموں، علماء، ائمہ اور مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داری بھی خاصی اہم ہے۔ جب کسی مسجد یا مدرسے کی زمین کے بارے میں سوال اٹھتا ہے تو عوامی جذبات کو فورا اشتعال کی طرف لے جانے کے بجائے انہیں دینی اور قانونی حقیقت سے آگاہ کرنا زیادہ مفید ہے۔ لوگوں کو یہ بتایا جانا چاہیے کہ مسجد قائم کرنا عبادت ہے، لیکن مسجد کے لیے زمین کا حق بھی دیکھنا ضروری ہے؛ مدرسہ قائم کرنا علم کی خدمت ہے، لیکن مدرسے کی زمین اور دستاویزات کی حفاظت بھی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح کسی قانونی اعتراض کے سامنے آنے پر سب سے پہلے یہ معلوم کرنا چاہیے کہ اعتراض کی نوعیت کیا ہے، زمین کا ریکارڈ کیا کہتا ہے، پرانے شواہد کیا ہیں اور قانون کے اندر اس کا حل کیا نکل سکتا ہے۔ مذہبی قیادت اگر عوام کے جذبات کے ساتھ ان کے شعور کو بھی بیدار کرے تو اس کا اثر زیادہ گہرا اور دیرپا ہوتا ہے۔ لوگوں کو جذباتی بنانا آسان ہے، مگر انہیں ذمہ دار بنانا اصل خدمت ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ مذہبی تنظیمیں مسئلہ پیدا ہونے کے بعد نہیں بلکہ پہلے ہی اپنے اداروں کے قانونی ریکارڈ کی حفاظت پر توجہ دیں۔ قدیم مساجد، مدارس، درگاہوں، خانقاہوں، مندروں، چرچوں اور گردواروں کے پاس موجود پرانے کاغذات، مقامی تصدیقات، رجسٹر، رسیدیں اور دیگر شواہد محفوظ کیے جائیں اور ضرورت کے وقت ماہرین سے ان کی قانونی حیثیت معلوم کی جائے۔ بروقت اور منظم ریکارڈ مستقبل کے تنازعات میں جذبات کے بجائے تاریخ، دستاویز اور حقیقت کی بنیاد پر بات رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
حکومت کی ذمہ داری اس کے بعد شروع ہوتی ہے کہ جو مذہبی ادارے پہلے سے قائم ہیں، ان کے بارے میں قانون کو انصاف اور انسانی حساسیت کے ساتھ نافذ کیا جائے۔ اگر کسی قدیم مسجد، مدرسے، مندر، چرچ، گردوارے، درگاہ یا خانقاہ کے بارے میں یہ سوال سامنے آئے کہ زمین سرکاری ہے یا اس کے کاغذات مکمل نہیں تو ہر معاملے میں فوری اور سخت قدم ہی واحد راستہ نہیں ہونا چاہیے۔ پہلے ریکارڈ دیکھا جائے، متعلقہ ادارے سے جواب طلب کیا جائے، پرانے کاغذات اور مقامی شواہد کا جائزہ لیا جائے اور جہاں مناسب ہو وہاں ادارے کو اپنی قانونی حیثیت مکمل کرنے کا موقع دیا جائے۔ اگر کسی جگہ قومی سلامتی یا کسی سنگین قانونی ضرورت کا سوال نہ ہو تو مناسب مہلت دینا، طریقۂ کار آسان بنانا اور مسئلے کو باقاعدہ قانونی تصفیے تک پہنچانا زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔ قانون اپنی جگہ قائم رہتا ہے، مگر قانون کے نفاذ میں سہولت اور رعایت کی گنجائش بھی انصاف کے دائرے میں آ سکتی ہے۔
خصوصاً وہ مذہبی ادارے جو عوامی چندوں، عطیات، صدقات یا دان سے چلتے ہیں، ان کی محدود مالی استطاعت کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ مسجد، مدرسہ، درگاہ، خانقاہ، مندر، چرچ اور گردوارہ عموما تجارتی ادارے نہیں ہوتے بلکہ عبادت، تعلیم اور خدمت کے مراکز ہوتے ہیں۔ اس لیے زمین یا دستاویزات کی قانونی تکمیل کے لیے اگر کوئی فیس مقرر کی جائے تو وہ معمولی اور قابلِ برداشت ہو، تاکہ ادارے قانون کے دائرے میں بھی آسکیں اور ان پر ایسا مالی بوجھ بھی نہ پڑے جو ان کی مذہبی و سماجی خدمات کو متاثر کرے۔ ایسی رعایت کسی ایک مذہب کے لیے نہیں بلکہ تمام مذہبی اداروں کے لیے یکساں اصول کے تحت ہونی چاہیے۔
اسی طرح قدیم مذہبی اداروں کے کاغذات میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہو تو اسے محض سزا یا جرم کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے قانونی اصلاح کا موقع دینا زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔ جو ادارے کئی دہائیوں سے قائم ہیں اور جن سے لوگوں کی مذہبی وابستگی جڑی ہے، انہیں اپنی قانونی حیثیت ثابت کرنے کے لیے مناسب مہلت اور باوقار طریقۂ کار فراہم کیا جائے۔ تکمیلی یا قانونی باقاعدگی کی معمولی فیس اس سلسلے میں ایک مناسب راستہ بن سکتی ہے۔ مقصد کسی کمی کو نظر انداز کرنا نہیں بلکہ ادارے کو قانون کے دائرے میں لانا، اس کا ریکارڈ مکمل کرنا اور آئندہ کے تنازع سے بچنا ہونا چاہیے۔ مناسب مہلت دینا بھی ضروری ہے۔ کئی دہائیوں سے قائم کسی مذہبی مقام کے ذمہ داران سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ مختصر مدت میں پرانے کاغذات اور زمین سے متعلق تمام ریکارڈ مکمل کر لے۔ مسجد، مدرسہ، مندر، چرچ، گردوارہ، درگاہ یا خانقاہ کے ذمہ داران کو دستاویزات جمع کرنے، سرکاری ریکارڈ سے تصدیق کرانے اور ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے لیے معقول وقت دیا جانا چاہیے۔ جہاں ضرورت ہو، مزید مہلت کی گنجائش بھی رکھی جا سکتی ہے۔ اس طرح حکومت اور مذہبی ادارے ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ مسئلے کے حل میں شریک بن سکتے ہیں، ادارہ اپنی ذمہ داری پوری کرے اور سرکاری نظام اسے یہ ذمہ داری پوری کرنے کا مناسب موقع دے۔یہاں ایک بنیادی اصول پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ قانون کا معیار مذہب نہیں بلکہ حق، حقیقت اور یکساں انصاف ہو۔ مسجد کے لیے جو اصول مقرر ہو، وہی مندر، چرچ، گردوارے، مدرسے، درگاہ اور خانقاہ پر بھی یکساں طور پر لاگو ہو۔ کسی مذہبی ادارے کو اس کی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنانا درست نہیں، اور نہ کسی کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر ایسا استثنا ملنا چاہیے جو دوسروں کو حاصل نہ ہو۔ ریاستی انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہر عبادت گاہ کا احترام ہو اور قانون کا پیمانہ سب کے لیے ایک رہے۔ مذہبی آزادی بھی اسی مساوات اور انصاف کے ساتھ زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔
اس بحث کا ایک حساس پہلو مذہبی مقامات کی منتقلی بھی ہے۔ بعض غیر معمولی حالات میں حفاظتی، انتظامی یا کسی ناگزیر ضرورت کے تحت کسی مسجد، مندر، چرچ، گردوارے یا دوسرے مذہبی مقام کی منتقلی کا سوال پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر کسی مخصوص مسجد کے بارے میں معتبر مذہبی رہنما اور فقہا، حالات و شرعی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے، منتقلی کی گنجائش پر اتفاق کریں تو اس فیصلے کو بھی اسی مخصوص واقعے اور اس کے مخصوص اسباب کی روشنی میں سمجھا جانا چاہیے، اسے عام شرعی قاعدہ یا ہر دوسرے مذہبی مقام کے لیے قابل اطلاق مثال نہیں بنایا جا سکتا۔ حکومت کو بھی ایسے معاملے میں شفاف قانونی طریقۂ کار، مناسب وضاحت اور اپنی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ متعلقہ مذہبی قیادت اور عوام کو اطمینان دلانا چاہیے کہ فیصلہ کسی وسیع تر مذہبی پالیسی کا پیش خیمہ نہیں بلکہ مخصوص حالات کا تقاضا ہے۔ اسی طرح عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ کسی ایک واقعے کو دوسرے تنازعات میں بطور دلیل پیش کرکے بے چینی یا ہنگامی کیفیت پیدا نہ کریں۔ ہر مقام کی اپنی تاریخ، زمین، قانونی حیثیت اور حالات ہوتے ہیں، اس لیے ایک خاص واقعے کو اسی کی حدود میں رکھنا اور اس سے عمومی نتائج اخذ نہ کرنا ہی زیادہ محتاط اور دانش مندانہ رویہ ہے۔ ایسے معاملات میں اختلاف کو اشتعال کے بجائے تدبر، اور اضطراب کے بجائے امن کا ذریعہ بنانا چاہیے، تاکہ ایک مخصوص ضرورت کا حل پورے معاشرے کے لیے بے چینی کا سبب نہ بنے۔یہ فرق اس لیے بھی ضروری ہے کہ کسی ایک مخصوص واقعے کو عمومی مثال بنا دینے سے ہر نئے معاملے کو اسی پیمانے سے دیکھنے کا رجحان پیدا ہو سکتا ہے۔ مذہبی معاملات میں ایسی جلد بازی نہ دینی شعور کے لیے مفید ہے اور نہ سماجی امن کے لیے۔ اگر کسی خاص مسجد یا دوسرے مذہبی مقام کے بارے میں غیر معمولی صورتِ حال کے پیش نظر کوئی راستہ اختیار کیا گیا ہو تو اس کی وجوہات کو اسی معاملے تک محدود رکھنا چاہیے۔ اس سے ملک بھر کے مذہبی مقامات کے بارے میں کوئی عمومی حکم اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ مذہبی رہنماؤں، تنظیموں، سرکاری اداروں اور ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری ہے کہ ایسے فیصلوں کی حدود واضح رکھیں، تاکہ کسی مخصوص واقعے سے غیر ضروری خوف، غلط فہمی یا بے اعتمادی پیدا نہ ہو۔
قومی سلامتی کا پہلو بھی اپنی جگہ اہم ہے۔ سرحدی یا حساس علاقوں میں کسی مذہبی ادارے سے متعلق حقیقی سلامتی کے خدشات ہوں تو ریاست کے لیے ان کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ حالیہ دنوں میں راجستھان ہائی کورٹ کے سامنے بھارت۔پاکستان سرحد سے پچاس کلومیٹر کے اندر بعض مساجد، مدارس اور درگاہوں کا معاملہ بھی سامنے آیا، جہاں عدالت نے فوری روک کے بجائے ہر معاملے کی الگ جانچ کے لیے خصوصی کمیٹی کی ہدایت دی۔ اس مثال سے یہی اصول سامنے آتا ہے کہ حساس معاملات میں قومی سلامتی، قانون، قدرتی انصاف اور مذہبی احترام کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔قومی سلامتی اور مذہبی آزادی بظاہر الگ میدان ہیں، مگر ایک ذمہ دار ریاست کے لیے دونوں میں توازن ضروری ہے۔ جہاں حقیقی سلامتی کا سوال ہو وہاں اسے مذہبی جذبات کی بنیاد پر نظر انداز نہیں کیاجاسکتا، لیکن کسی مذہبی ادارے کی شناخت بھی محض کارروائی کی وجہ نہیں بننی چاہیے۔ سلامتی سے متعلق خدشات شواہد کی بنیاد پر پرکھے جائیں، جبکہ صرف زمین کے کاغذات یا پرانی انتظامی کمی کو بلاوجہ سلامتی کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔ ہر معاملہ اس کے اپنے حقائق اور حالات کے مطابق دیکھا جانا چاہیے۔
پرانے مذہبی اداروں کے بارے میں ایک متوازن طریقۂ کار یوں ہو سکتا ہے کہ پہلے زمین اور ریکارڈ کی جانچ کی جائے، پھر متعلقہ ادارے کو باقاعدہ اطلاع دی جائے، اسے اپنی دستاویزات اور موقف پیش کرنے کا موقع ملے، پرانے مقامی ریکارڈ اور دیگر شواہد بھی دیکھے جائیں، مناسب وقت دیا جائے اور جہاں قانونی طور پر ممکن ہو وہاں معمولی فیس کے ذریعے حیثیت مکمل کرنے کا راستہ فراہم کیا جائے۔ اگر معاملہ محض کاغذات کی کمی یا پرانی انتظامی بے قاعدگی کا ہو تو اصلاح کو پہلی ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔ البتہ جہاں کسی معاملے میں سنگین قانونی خلاف ورزی یا حقیقی قومی سلامتی کا خطرہ ثابت ہو، وہاں قانون کے مطابق ضروری قدم اٹھانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس طرح کارروائی اور رعایت دونوں اپنی اپنی جگہ رہتی ہیں اور کسی ایک کو دوسرے کا دشمن نہیں سمجھا جاتا۔
مستقبل کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ نئے مذہبی اداروں کے قیام کے وقت ہی زمین کی ملکیت، حقِ استعمال، ضروری اجازت اور متعلقہ دستاویزات واضح کر لی جائیں۔ مسجد، مدرسہ، مندر، چرچ، گردوارہ، درگاہ یا خانقاہ، ہر مذہبی مقام کے ذمہ داران کو چاہیے کہ ابتدا ہی سے قانونی تقاضے پورے کریں اور ریکارڈ محفوظ رکھیں۔ مقامی سطح پر بھی یہ شعور پیدا ہونا چاہیے کہ مذہبی مقام کا قیام ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ آج کی یہ احتیاط آنے والی نسلوں کو بہت سے قانونی تنازعات اور غیر ضروری کشیدگی سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
الغرض! اس مسئلے کی ذمہ داری حکومت اور مذہبی اداروں دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ قانون کے ساتھ انصاف اور سہولت کا راستہ بھی کھلا رکھے، مذہبی ادارے اپنی قانونی ذمہ داریوں کو دیانت داری سے نبھائیں، علماء اور مذہبی تنظیمیں عوام میں دینی شعور کے ساتھ قانونی بصیرت بھی پیدا کریں، اور معاشرہ جذبات کی شدت کے بجائے فہم و تدبر سے معاملات کو دیکھے۔ مذہبی آزادی اور قانون کی بالادستی ایک دوسرے کی ضد نہیں ہے دونوں اسی وقت ایک دوسرے کی قوت بنتے ہیں جب انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ مسجد کی حرمت کا احترام ہو تو اس کی زمین کے حق کا احترام بھی لازم سمجھا جائے، مندر، چرچ، گردوارے، درگاہ اور خانقاہ کی تقدیس کے ساتھ ان کی قانونی ذمہ داریوں کو بھی پیش نظر رکھا جائے، اور ریاست سے قانون کی پاسداری کی توقع ہو تو مذہبی اداروں سے بھی ذمہ داری اور احتیاط کی امید کی جائے۔ اگر یہ توازن قائم ہو جائے تو مقدس مقامات محض تنازع اور اختلاف کی علامت نہیں رہیں گے بلکہ امن، تعلیم، روحانی سکون اور باہمی احترام کے وہ مراکز بن سکتے ہیں جن کی روشنی پورے معاشرے کو منور کرتی ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






