
ئی دہلی : مدھیہ پردیش کے اجین میں سیکڑوں اسکولی طالبات نے اپنے سرکاری اسکولوں کو شہر سے باہر دور دراز علاقے میں منتقل کرنے کی مجوزہ منصوبہ بندی کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ طالبات نے نعرے لگاتے ہوئے حکومت سے فیصلہ واپس لینے کی اپیل کی اور اپنی حفاظت، آمدورفت اور تعلیم کے مستقبل کو لے کر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ احتجاج کے دوران کئی طالبات جذباتی ہوگئیں اور روتے ہوئے حکام سے اپنی بات سننے کی اپیل کی، جبکہ مظاہرے میں دو طالبات کے بے ہوش ہونے کی بھی اطلاع ہے۔جمعہ 14 اگست 2026 کو اجین کے سرافہ علاقے میں واقع ایک گرلز اسکول کی 300 سے زیادہ طالبات اپنے والدین اور سماجی کارکنوں کے ساتھ ضلع کلکٹر کے دفتر کے سامنے پہنچیں۔ طالبات نے تقریباً دو گھنٹے تک دھرنا دیا اور اسکولوں کو داؤد کھیڑی منتقل کرنے کی مجوزہ تجویز کے خلاف نعرے لگائے۔ داؤد کھیڑی ان طالبات کے موجودہ اسکولوں سے تقریباً 6 سے 10 کلومیٹر دور اور شہر کی حدود سے باہر واقع ہے۔احتجاج کرنے والی طالبات کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی پہلے ہی آس پاس کے دیہی علاقوں سے لمبا سفر کرکے اسکول پہنچتی ہیں۔ اگر اسکول مزید دور منتقل کر دیے گئے تو ان کے لیے روزانہ آمدورفت مشکل ہوجائے گی، جبکہ والدین کو خاص طور پر طالبات کی حفاظت کی فکر ہے۔
ریاستی حکومت کی جانب سے چھوٹے اسکولوں کو بڑے اسکولوں میں ضم کرنے کے اقدامات کے تحت سرافہ، مہاکال میدان، مہاراج واڑہ اور جے سنگھ پورہ سمیت مختلف علاقوں کے کم از کم چھ مڈل اور سیکنڈری اسکول متاثر ہونے کا امکان ہے۔ مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ ان اسکولوں کو داؤد کھیڑی میں تعمیر کیے گئے سندیپنی اسکول میں ضم کیا جائے گا اور اس فیصلے سے 2500 سے زیادہ طلبہ و طالبات متاثر ہوسکتے ہیں۔ایک طالبہ، جس کا نام شناخت ظاہر نہ کرنے کے لیے تبدیل کرکے شکھا بتایا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ کئی لڑکیاں پہلے ہی 8 سے 10 کلومیٹر تک کا سفر کرتی ہیں۔ ایسے میں مزید دور اسکول منتقل ہونے سے ان کے والدین کی پریشانی بڑھ جائے گی۔ اس نے کہا کہ انہیں صرف تعلیم چاہیے، جو ان کا حق ہے۔ طالبہ نے ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ اگر والدین مزدور ہوں تو وہ اپنی بیٹی کو اتنی دور اسکول کیسے بھیجیں گے۔
ایک دوسری طالبہ نوتن نے کہا کہ موجودہ اسکول مرکزی سڑک پر ہے اور کئی طالبات دور دراز دیہات سے آتی ہیں۔ اگر اسکول داؤد کھیڑی منتقل ہوا تو ان کی حفاظت کی ذمہ داری کون لے گا؟ اس نے بتایا کہ احتجاج کے دوران دو طالبات بے ہوش ہوگئیں کیونکہ انہوں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا۔احتجاج میں ایک طالبہ روتے ہوئے کہتی نظر آئی کہ کئی طالبات کی طبیعت خراب ہے اور صبح سے کچھ کھایا پیا نہیں، لیکن کوئی ان کی بات سننے کے لیے تیار نہیں۔ اس موقع پر ایک استاد بھی طالبہ کو تسلی دیتے ہوئے جذباتی ہوگئے۔والدین اور کارکنوں سے ملاقات کے بعد اجین کے ضلعی تعلیمی افسر مہندر کھتری نے واضح کیا کہ اسکولوں کو منتقل کرنے کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ ضلعی سطح کی نگرانی کمیٹی کرے گی، جس کی میٹنگ 19 اگست تک ہونے کی امید ہے۔ اس دوران طلبہ کے نمائندوں کو تجویز کے بارے میں معلومات دی جائیں گی اور انہیں اپنا موقف رکھنے کا موقع بھی ملے گا۔ فیصلہ ہونے تک سرافہ اسکول موجودہ مقام سے ہی چلتا رہے گا۔اسکول بچاؤ سنگھرش سمیتی کے کارکن جتیندر سینگر نے کہا کہ متاثرہ اسکولوں کے طلبہ جولائی میں بھی اس تجویز کے خلاف احتجاج کرچکے ہیں اور حکام کو چار مرتبہ تحریری درخواستیں دی جاچکی ہیں۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82





