
جے پی ایس سی، جے ایس ایس سی سمیت دیگرمسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کررہے طلبا نے پیر(10 اگست) کوجھارکھنڈ اسمبلی کی جانب مارچ نکالا۔ طلبہ کی بڑی تعداد کوقابوسے باہرہوتا دیکھ کرپولیس نے لاٹھی چارج کیا اورآنسوگیس کے گولے بھی داغے۔ اس دوران گزشتہ 9 دن سے بھوک ہڑتال پربیٹھے جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی نیائے منچ کے طلبا لیڈردیویندرناتھ مہتو بھی ایمبولینس میں سوارہوکرمارچ میں شامل ہوئے۔ انہوں نے مظاہرین کے خلاف پولیس کی کارروائی پرحکومت کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا اورخبردارکیا کہ اگرحکومت اپنی کرسی بچانا چاہتی ہے توطلبا کے مطالبات تسلیم کرے۔
ہیمنت سورین حکومت ڈرگئی ہے: دیویندرناتھ مہتو
جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی نیائے منچ کے طلبا لیڈردیویندرناتھ مہتونے کہا کہ آج وزیراعلیٰ کی سالگرہ ہے اورحکومت طلبا کوتحفے کے طورپرلاٹھی چارج، واٹرکینن اورآنسوگیس کے گولے دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے عالمی سطح پرجھارکھنڈ کی بدنامی ہورہی ہے۔ دیویندرناتھ مہتونے کہا، ’’میں شروع سے ہی حکومت کوکہہ رہا تھا کہ ایسا کوئی قدم نہ اٹھایا جائے جس سے ریاست پرکوئی داغ لگے۔ یہی داغ حکومت کی کرسی ہلا دے گا۔ یہ لاکھوں طلبہ کا درد ہے، جوآج سڑکوں پرنکل کرسامنے آیا ہے۔ حکومت جواب دینے سے قاصرہے اوروہ ڈرگئی ہے۔‘‘
اب وزیراعلیٰ سے ہی بات ہوگی: طلبا
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت کے وفد کوموقع پرآکرطلبا سے بات چیت کرنی چاہئے، تودیویندرناتھ مہتو نے کہا کہ اب کسی وفد کے ساتھ بات چیت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اب براہ راست وزیراعلیٰ سے بات ہوگی، ورنہ طلبا کے تمام مطالبات تسلیم کئے جائیں۔ انہوں نے کہا، ’’اب کسی وفد سے بالکل بات نہیں ہوگی۔ اب وزیراعلیٰ سے ہی بات ہوگی، ورنہ ہمارے مطالبات پورے کئے جائیں۔ ہم سب یہ دیکھیں گے کہ حکومت کی لاٹھی اورآنسوگیس کے گولوں میں کتنا دم ہے۔‘‘
’کرسی بچانی ہے تومطالبات پورے کرے حکومت‘
اسمبلی گھیراؤمارچ کے دوران دیویندرناتھ مہتو نے حکومت کوخبردارکرتے ہوئے کہا کہ اگرحکومت اپنی کرسی بچانا چاہتی ہے توطلبا کے مطالبات پورے کرے، ورنہ اس کرسی کوکوئی نہیں بچا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے قریب خاردارتاروں سے کی گئی بیریکیڈنگ نے طلبا کومزید مشتعل کیا ہے۔ ان کے مطابق طلبا کے خلاف پولیس کارروائی کی تصاویرنہ صرف ملک بلکہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے اوراس سے جھارکھنڈ کی بدنامی ہورہی ہے۔
’یہ تحریک رکنے والی نہیں‘
دیویندرناتھ مہتو نے کہا کہ یہ تحریک اب رکنے والی نہیں ہے بلکہ ایک عوامی تحریک بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’’یوا‘ (نوجوان) لفظ کا الٹا ’وایو‘ (ہوا) ہوتا ہے اورہوا کوکوئی نہیں روک سکتا۔ آپ اس اسمبلی مارچ میں طلبہ کا درد دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ 9 دن کی بھوک ہڑتال کے باوجود وہ ایمبولینس کے ذریعہ یہاں پہنچے اوراسٹریچرپرمارچ کا حصہ بنے۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت طلبا کی آوازدبانے کے لئے واٹرکینن اورآنسوگیس کے گولوں کا استعمال کررہی ہے، جوقابل مذمت ہے۔
’یہ بزدل حکومت ہے‘
دیویندرناتھ مہتونے حکومت کو’بزدل‘ قراردیتے ہوئے کہا کہ جب بھی حکومت ڈرتی ہے، پولیس کوآگے کردیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبا آگے بڑھتے رہیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے ساتھ طلبہ کی تین دورکی بات چیت ہوچکی ہے اوراب حکومت کوان کے مطالبات تسلیم کرنے چاہئیں۔ انہوں نے خبردارکیا کہ اگرطلبا کے مطالبات پورے نہیں کئے گئے تووزیراعلیٰ کی کرسی خطرے میں پڑسکتی ہے اورحکومت ہل جائے گی۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







