
انسون اجلاس میں پیش کیے جانے والے خواتین ریزرویشن بل (Women Reservation Bill) سے متعلق لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے تبصرے کے بعد سیاسی بحث نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو نے راہل گاندھی کے بیان کو مثبت قرار دیتے ہوئے اسے ان کی سوچ میں تبدیلی سے جوڑ دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کانگریس خواتین ریزرویشن قانون کی غیر مشروط حمایت کرے گی۔ اس کے جواب میں راہل گاندھی نے 2023 میں منظور کیے گئے قانون کے نفاذ پر ہی سوال اٹھا دیا۔
کرن ریجیجو نے کیا کہا؟
کرن ریجیجو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ خواتین کے تئیں راہل گاندھی کی سوچ میں تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے اسے کانگریس کی جانب سے ایک مثبت پیغام قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اب پارٹی خواتین ریزرویشن بل کی غیر مشروط حمایت کرے گی۔ریجیجو کے اس بیان کے بعد معاملہ مزید سیاسی بحث کا موضوع بن گیا، کیونکہ خواتین کو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں ریزرویشن دینے کا قانون پہلے ہی پارلیمنٹ سے منظور ہو چکا ہے۔
خواتین بل کو حد بندی سے کیوں جوڑا جا رہا ہے؟ راہل گاندھی کا سوال
راہل گاندھی نے کرن ریجیجو کے بیان پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ ریجیجو خود پارلیمانی امور کے وزیر ہیں اور ان سے بہتر کون جانتا ہوگا کہ خواتین ریزرویشن بل 2023 میں پارلیمنٹ سے متفقہ طور پر منظور ہو چکا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس نے بھی اس بل کی مکمل حمایت کی تھی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر قانون 2023 میں منظور ہو چکا ہے تو تین سال گزرنے کے باوجود اسے نافذ کیوں نہیں کیا گیا؟ راہل نے یہ بھی پوچھا کہ خواتین ریزرویشن قانون کے نفاذ کو حلقہ بندی (Delimitation) سے کیوں جوڑا جا رہا ہے۔
حد بندی ہی تنازع کا مرکزی نکتہ
دونوں لیڈروں کے درمیان موجودہ بحث کا مرکز یہی معاملہ بن گیا ہے۔ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ 2023 میں بنائے گئے قانون کو نافذ کرنے کے لیے کسی اضافی شرط کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا اشارہ اس انتظام کی جانب ہے جس کے تحت پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کا نفاذ آئندہ مردم شماری اور حلقہ بندی کے عمل سے منسلک کیا گیا ہے۔
خواتین کی آزادی اور صلاحیت پر بھی بولے راہل
اس سے قبل راہل گاندھی نے خواتین کی آزادی اور صلاحیت کے حوالے سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستانی خواتین میں بے پناہ توانائی موجود ہے، لیکن انہیں اپنی بات کہنے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو سامنے لانے کی مکمل آزادی نہیں ملتی۔ راہل گاندھی کے مطابق کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہاں کی خواتین کھل کر اپنے خیالات کا اظہار نہ کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستانی سیاست کا ایک بڑا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ معاشرہ یہ سمجھے کہ خواتین کی شمولیت اور اظہارِ رائے کے بغیر ملک کی ترقی ادھوری ہے۔اب دیکھنا ہوگا کہ خواتین ریزرویشن کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری یہ بحث آنے والے دنوں میں کیا سیاسی رخ اختیار کرتی ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






