
ایرانی صدرمسعود پزشکیان نے امریکہ اوراسرائیل پرجنگ شروع کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے یہ جنگ شروع نہیں کی تھی۔ ان کے مطابق، مخالفین نے فوجی دباؤکے ذریعہ ایران کوکمزورکرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ ایران کے صدرمسعود پزشکیان نے ایران، اسرائیل اورامریکہ کے درمیان جاری طویل تنازع پربڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا تھا اورتنازعہ کوبات چیت کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کررہا تھا، لیکن حالات بتدریج جنگ کی طرف بڑھتے چلے گئے۔
مسعود پزشکیان نے جمعہ، 7 اگست کوایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پرنشرہونے والے ایک انٹرویومیں کہا کہ ان کے مخالفین کوامید تھی کہ فوجی دباؤاورملک کے اندرپیدا ہونے والے حالات کے باعث ایران بکھرجائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود ایران آج بھی ایک مضبوط ملک کے طورپرکھڑا ہے اورمستقبل میں مزید مضبوط ہوکرابھرے گا۔
48 گھنٹے میں ایران پر قبضے کا منصوبہ تھا
ایرانی صدرمسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا کہ ان کے مخالفین نے شام کی طرزپر48 گھنٹے کے اندرایران پرقبضہ کرنے کا مکمل منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم ایران نے اپنی طاقت اورصلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس منصوبے کوناکام بنا دیا۔ پزشکیان کے مطابق موجودہ حالات نے ثابت کردیا ہے کہ ایران کواتنی آسانی سے کمزوریا غیرمستحکم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے راستے پرمضبوطی کے ساتھ آگے بڑھتا رہے گا۔
مسلم ممالک سے متحد ہونے کی اپیل
ایرانی صدرنے مسلم ممالک سے متحد ہونے کی اپیل بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ جب مسلمان متحد ہوتے ہیں تووہ بیرونی طاقتوں کی سازشوں اورچیلنجزکا زیادہ مضبوطی سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں مسلم ممالک کے درمیان اتحاد پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔ مسعود پزشکیان نے ایران کے نئے سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اب ان سے بات چیت کرنا کافی مشکل ہے، تاہم ان کی موجودگی ایران کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈربننے کے بعد سے وہ عوامی سطح پر بہت کم نظرآئے ہیں۔ ان کی کم موجودگی کی وجہ سکیورٹی اور صحت سے متعلق وجوہات بتائی جاتی رہی ہیں۔
علی خامنہ ای کی موت کے بعد مجتبیٰ بنے سپریم لیڈر
امریکہ اوراسرائیل کے ایران پرحملوں کے دوران اس وقت کے سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کی موت ہوگئی تھی۔ اس کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کوایران کا سپریم لیڈرمقررکیا گیا۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے عوامی سطح پر کم نظرآنے کے حوالے سے سکیورٹی سے متعلق سوالات بھی اٹھتے رہے ہیں۔ پزشکیان نے اسی تناظرمیں ان کی موجودگی کوایران کے لیے اہم قراردیا۔ پزشکیان نے امریکہ اوراسرائیل پربراہ راست جنگ شروع کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران بات چیت کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کرنے کی کوشش کررہا تھا، لیکن دوسری جانب سے مسلسل کشیدگی بڑھائی جا رہی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا تھا، لیکن حالات ایسے بنتے چلے گئے کہ تنازع ایک بڑے فوجی تصادم میں تبدیل ہوگیا۔ ٹرمپ نے بھی جنگ جلد ختم ہونے کی امید ظاہرکی تھی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 اگست کو کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی بتایا تھا کہ امریکی فوج کوبعض ہتھیاروں کی فراہمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔ پزشکیان کا یہ تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اورایران کے درمیان کشیدگی برقرارہے۔ ایرانی صدرنے اپنے بیان کے ذریعہ یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ فوجی دباؤاورمختلف چیلنجزکے باوجود ایران پیچھے ہٹنے کے بجائے خود کومزید مضبوط کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






