
ھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) کی بھرتی امتحانات میں مبینہ دھاندلی اور سیٹنگ کے ایک حیران کن معاملے نے سب کو چونکا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جس ایجنسی کو جے پی ایس سی کے 14ویں ابتدائی (پی ٹی) امتحان کے شفاف انعقاد کی ذمہ داری دی گئی تھی، اسی ایجنسی کا اکاؤنٹنٹ خود امتحان میں شریک ہوا اور کامیاب بھی ہوگیا۔ تاہم اب جھارکھنڈ سی آئی ڈی نے اس مبینہ ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کرکے پورے نیٹ ورک کی پرتیں کھولنی شروع کر دی ہیں۔ سی آئی ڈی نے لکھنؤ سے رکشک سنگھ نامی اکاؤنٹنٹ کو گرفتار کیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد اس بھرتی گھوٹالے میں گرفتار ہونے والے ملزمان کی تعداد بڑھ کر 20 ہو گئی ہے۔
ٹی ڈی پی ایل ایجنسی کا اکاؤنٹنٹ لکھنؤ سے گرفتار
سی آئی ڈی کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ رکشک سنگھ ٹی ڈی پی ایل ایجنسی میں اکاؤنٹنٹ کے طور پر کام کرتا تھا، جسے جے پی ایس سی کے 14ویں ابتدائی امتحان کے انعقاد کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ الزام ہے کہ اس نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے او ایم آر شیٹس اور امتحانی ڈیٹا میں مبینہ طور پر ہیر پھیر کی، خود امتحان دیا اور ابتدائی امتحان بھی کامیاب کر لیا۔ سی آئی ڈی نے اسے لکھنؤ کے بخشی کا تالاب علاقے سے گرفتار کیا اور ٹرانزٹ ریمانڈ پر رانچی لے آئی۔
رانچی سے لکھنؤ تک سی آئی ڈی کی چھاپہ مار کارروائیاں
جھارکھنڈ سی آئی ڈی نے رانچی اور لکھنؤ پولیس کے تعاون سے متعدد مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے۔ اس کارروائی میں رکشک سنگھ کے علاوہ مزید چار افراد کو گرفتار کیا گیا۔
اماکانت اوراؤں (بریاٹو، رانچی) پر الزام ہے کہ وہ ایجنٹ کے طور پر امیدواروں کی مبینہ ’سیٹنگ‘ کراتا تھا۔
روشن کرکیٹا (کوکر، رانچی) پر ناجائز ذرائع استعمال کرکے امتحان پاس کرنے کا الزام ہے۔
منوج کمار (دھرووا، رانچی) پر غیر قانونی طریقے سے پی ٹی امتحان کامیاب کرنے کا الزام ہے۔
دھرمیندر کمار (آڈرے ہاؤس، رانچی) جھارکھنڈ حکومت میں کنٹریکٹ پر تعینات کمپیوٹر آپریٹر تھا، جس پر مبینہ طور پر اس گروہ کی مدد کرنے کا الزام ہے۔
موبائل اور الیکٹرانک شواہد فارنسک جانچ کے لیے بھیج دیے گئے
سی آئی ڈی نے ملزمان کے قبضے سے کئی مہنگے موبائل فون، الیکٹرانک آلات، ڈیجیٹل ریکارڈ اور امتحان سے متعلق حساس دستاویزات برآمد کیے ہیں۔ ضبط شدہ تمام شواہد کو فارنسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) بھیج دیا گیا ہے۔ تفتیشی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ رکشک سنگھ اور سرکاری کمپیوٹر آپریٹر سے حاصل ہونے والے شواہد اس پورے مبینہ ریکیٹ کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔
مزید گرفتاریاں بھی ممکن
ابتدائی تحقیقات سے اشارہ ملا ہے کہ معاملہ صرف محدود بے ضابطگیوں تک نہیں بلکہ ایک منظم مبینہ نیٹ ورک سے جڑا ہو سکتا ہے۔ الزام ہے کہ امتحانی ایجنسی کے بعض اندرونی ملازمین اور سرکاری اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے امیدواروں سے بھاری رقم وصول کرکے نتائج میں ہیر پھیر کی جاتی تھی۔ سی آئی ڈی کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے پوچھ گچھ کے بعد آئندہ دنوں میں اس معاملے میں مزید اہم افراد کے نام بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






