
نئی دہلی: بالی ووڈ اداکار عامر خان کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے کے معاملے میں تحقیقاتی ایجنسیوں کو ایک اہم سراغ ملا ہے۔ پنجاب پولیس کی فرانزک جانچ کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی دھمکی آمیز آڈیو میں سنائی دینے والی آواز مبینہ طور پر لارنس بشنوئی گینگ کے رکن آرزو بشنوئی کی پرانی وائس ریکارڈنگ سے مماثلت رکھتی ہے۔ اگرچہ پولیس نے ابھی اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے، تاہم اس پیش رفت کے بعد ممبئی پولیس کی کرائم برانچ اور سائبر سیل نے تحقیقات مزید تیز کر دی ہیں۔تحقیق سے وابستہ ذرائع کے مطابق وائرل آڈیو میں موجود آواز کا تقابل آرزو بشنوئی کے پرانے وائس سیمپل سے کیا گیا، جس میں مماثلت سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ پنجاب پولیس نے فرانزک جانچ کی رپورٹ ممبئی کرائم برانچ کو بھی ارسال کر دی ہے، جہاں اس سراغ کو کیس کی تفتیش میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود تفتیشی حکام دیگر ڈیجیٹل شواہد اور تکنیکی معلومات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جا سکے۔
چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک آڈیو کلپ تیزی سے وائرل ہوئی تھی، جس میں بولنے والے شخص نے خود کو آرزو بشنوئی بتایا اور عامر خان کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے انہیں “سبق سکھانے” کی بات کہی تھی۔ اس آڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد ممبئی پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ دھمکی دینے والوں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا۔ ممبئی پولیس کی سائبر سیل کے مطابق دھمکی سے متعلق ڈیجیٹل فٹ پرنٹس بیرون ملک سے منسلک پائے گئے۔ جانچ میں انکشاف ہوا کہ اصل مقام اور ڈیوائس کی معلومات چھپانے کے لیے سویڈن میں قائم وی پی این (VPN) سروس اور انکرپٹڈ “ٹور براؤزر” (Tor Browser) جیسی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔
تفتیشی حکام اب اس پہلو کی بھی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا مذکورہ آڈیو براہِ راست آرزو بشنوئی نے خود ریکارڈ کی تھی یا پھر گینگ کے کسی دوسرے رکن نے اس کی شناخت استعمال کرتے ہوئے یہ آڈیو تیار کی۔ اس کے علاوہ پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس آڈیو کو سب سے پہلے سوشل میڈیا پر کس نے اپ لوڈ کیا اور اسے وائرل کرنے میں کن افراد یا نیٹ ورکس کا کردار رہا۔اس حساس معاملے میں ممبئی پولیس، پنجاب پولیس اور دیگر تحقیقاتی ایجنسیاں مشترکہ طور پر کام کر رہی ہیں۔ حکام انٹرنیٹ کالنگ، سوشل میڈیا سرگرمیوں، ڈیجیٹل ریکارڈز اور دیگر تکنیکی شواہد کی جانچ کر رہے ہیں تاکہ دھمکی دینے والے شخص اور اس کے ممکنہ نیٹ ورک تک پہنچا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ہی کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جائے گا۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






