
نئی دہلی: لوک سبھا میں پیر کو اپوزیشن ارکان کی مسلسل نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی کے باعث ایوان کی کارروائی بار بار متاثر ہوئی۔ حکومت کی جانب سے “عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل 2026” پر تفصیلی بحث کرانے کی کوششوں کے باوجود ایوان میں اتفاق رائے نہ بن سکا، جس کے بعد اسپیکر اوم برلا نے کارروائی شام 5 بجے تک ملتوی کر دی۔یہ دن میں تیسری بار تھا ،جب لوک سبھا کی کارروائی ملتوی کرنا پڑی۔ پیپر لیک مخالف بل پیش کیے جانے کے بعد اپوزیشن نے مسلسل احتجاج جاری رکھا، جس کے باعث مجوزہ قانون پر بامعنی بحث ممکن نہ ہو سکی۔لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے ارکان سے ایوان کی وقار اور پارلیمانی روایات برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ نعرے بازی اور پلے کارڈ دکھانے کے بجائے اپنی نشستوں پر واپس آئیں اور بحث میں حصہ لیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تمام ارکان کو اپنی بات رکھنے کا مکمل موقع دیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر اس بل پر بحث کا وقت چھ گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ بڑھایا جا سکتا ہے۔
اوم برلا نے کہا، “نعرے بازی اور پلے کارڈ دکھانے سے اس اہم مسئلے کا حل نہیں نکلے گا۔ میری درخواست ہے کہ آپ ایوان میں اپنے خیالات پیش کریں۔ اگر ضرورت پڑی تو بحث کا وقت چھ گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ کر دیا جائے گا، تاکہ ہر رکن اپنی رائے دے سکے اور ملک کے طلبہ، جو اس کارروائی پر نظر رکھے ہوئے ہیں، انہیں مؤثر قانون سازی کا یقین دلایا جا سکے۔”انہوں نے مزید کہا کہ ارکان کو اس مسئلے پر سنجیدہ بحث کے لیے منتخب کیا گیا ہے، نہ کہ صرف احتجاج اور نعرے بازی کے لیے۔دریں اثنا، پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے اسپیکر کی جانب سے بحث کے لیے وافر وقت دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اپوزیشن آخر بحث سے کیوں گریز کر رہی ہے، جبکہ متعدد ارکان پہلے ہی اس بل پر ترامیم کے نوٹس جمع کرا چکے ہیں۔کرن رجیجو نے کہا، “جب کئی ارکان نے ترامیم کے نوٹس دیے ہیں اور اسپیکر بھی تفصیلی بحث کے لیے مکمل وقت دینے پر آمادہ ہیں، تو پھر اپوزیشن نعرے بازی کے ذریعے بحث کیوں روکنا چاہتی ہے؟ یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔”
انہوں نے کہا کہ پورے ملک کے طلبہ پارلیمنٹ کی کارروائی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، اور اگر اس اہم قانون پر بحث میں تاخیر ہوتی ہے تو اس سے یہ تاثر جائے گا کہ پارلیمنٹ امتحانی بے ضابطگیوں کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔کرن رجیجو نے کانگریس سے دوبارہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اتحادیوں کو آمادہ کرے تاکہ ایوان میں اس اہم بل پر بحث کا آغاز ہو سکے۔ ان کے مطابق، “اسپیکر جتنا بھی وقت دیں، حکومت اس کے لیے تیار ہے، لیکن اس بل پر بامعنی بحث ضرور ہونی چاہیے۔”کارروائی ملتوی کرنے سے قبل اسپیکر اوم برلا نے تمام سیاسی جماعتوں کےلیڈروں سے آپس میں مشاورت کر کے اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی اپیل کی تاکہ شام 5 بجے کے بعد اس اہم بل پر بحث شروع کی جا سکے۔ انہوں نے کہا، “میں تمام جماعتوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ باہمی مشاورت کے ذریعے کوئی راستہ نکالیں۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو شام 5 بجے تک اتفاقِ رائے قائم کرنا ہوگا تاکہ اس بل پر مؤثر بحث ممکن ہو سکے۔”بعد ازاں، اسپیکر نے لوک سبھا کی کارروائی شام 5 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






