
نئی دہلی: تاریخ گواہ ہے کہ کچھ شخصیات اپنے دور سے آگے سوچتی ہیں اور ان کے نظریات آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔ بھارتیہ جن سنگھ کے بانی، ماہرِ تعلیم اور قوم پرست رہنما ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی بھی ایسی ہی ایک شخصیت تھے، جنہوں نے ایک متحد اور مضبوط بھارت کا خواب دیکھا۔ ان کی برسی کے موقع پر ایک بار پھر ان کے نظریات اور موجودہ دور میں ان کی عملی تعبیر پر بحث ہو رہی ہے۔ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی 6 جولائی 1901 کو کولکاتا کے ایک معروف بنگالی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سر آشوتوش مکھرجی ایک نامور ماہرِ تعلیم تھے، جن کے اثرات شیاما پرساد کی شخصیت پر گہرے رہے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ قومی سیاست میں سرگرم ہوئے اور آزادی کی تحریک میں حصہ لیا۔ آزادی کے بعد وہ مرکزی حکومت میں وزیر بھی رہے، تاہم بعض قومی معاملات پر اختلافات کے باعث انہوں نے وزارت چھوڑ دی۔

ڈاکٹر مکھرجی کا سب سے نمایاں مؤقف جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت کے خلاف تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ ایک ملک میں الگ آئین، الگ پرچم اورالگ انتظامی ڈھانچہ قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے ’’ایک دیش، ایک ودھان‘‘ کا نعرہ دیا، جو بعد میں ان کی سیاسی شناخت بن گیا۔ 23 جون 1953 کو ان کی موت ہوگئی، قابل ذکربات یہ ہےکہ ان کے نظریات سیاسی اور سماجی حلقوں میں زندہ رہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی نظریاتی بنیادوں میں ڈاکٹر مکھرجی کے افکار کو اہم مقام حاصل ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کا مؤقف ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں کئی ایسے فیصلے کیے گئے ہیں جو ڈاکٹر مکھرجی کے نظریات سے ہم آہنگ ہیں۔ ان میں سب سے اہم اقدام 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کی منسوخی کو قرار دیا جاتا ہے، جس کے بعد جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی گئی۔

اس کے علاوہ ملک بھر میں یکساں ٹیکس نظام کے طور پر جی ایس ٹی کا نفاذ، ’’ایک ملک، ایک راشن کارڈ‘‘ اسکیم، ڈیجیٹل انڈیا مہم، نئی قومی تعلیمی پالیسی (NEP) اور ’’ایک ملک، ایک انتخاب‘‘ جیسے تصورات بھی قومی یکسانیت اور انتظامی ہم آہنگی کے اقدامات کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل خدمات، آدھار، یو پی آئی، ڈیجی لاکر اور دیگر سہولیات نے ملک کے مختلف حصوں کو ایک مشترکہ نظام سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح ثقافتی ورثے کے تحفظ، کاشی وشوناتھ کوریڈور کی ترقی اور ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کو بھی ثقافتی شناخت کے فروغ کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے نظریات نے بھارتی سیاست پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ ان کی زندگی قومی یکجہتی، نظریاتی وابستگی اور عوامی خدمت کی ایک مثال سمجھی جاتی ہے۔ ان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ ان کا خواب آج مختلف پالیسی اقدامات کی صورت میں حقیقت کا روپ اختیار کر رہا ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







