
اسرائیل اورحزب اللہ کے درمیان جنگ بندی نافذ ہونے کے کچھ ہی گھنٹے بعد جنوبی لبنان میں پھرسے حملے شروع ہوگئے ہیں۔ لبنان کی سرکاری میڈیا کے مطابق، ہفتہ کے روزاسرائیلی ہوائی اورڈرون حملوں میں 5 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ لبنان کی سرکاری نیوزایجنسی این این اے نے بتایا کہ اسرائیلی جنگی طیارے اورڈرون نے رات بھراورہفتہ کی صبح تک نبطیہ کے علاقے میں کئی مقامات پرحملہ کیا۔ ان حملوں میں کئی مکانات اوررہائشی عمارتیں تباہ ہوگئیں۔ اسرائیلی فورسزنے فجرسے قبل نبیطیہ اوراطراف کے علاقوں پرتوپ خانے کے گولے بھی داغے۔
کچھ دیرپہلے جنگ بندی پرہوا تھا اتفاق
یہ حملہ اسرائیل اورایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان جمعہ کے روزجنگ بندی پراتفاق ہونے کے چند روزبعد ہوا ہے۔ ایک امریکی اہلکارکے مطابق، جنگ بندی شام 4 بجے (جی ایم ٹی 1300) جمعہ کے روزنافذ ہوئی تھی۔ اس معاہدے کی تصدیق ایک سینئراسرائیلی اہلکاراورحزب اللہ کے دوذرائع نے بھی کی۔ جنگ بندی سے قبل جنوبی لبنان میں تشدد میں اضافہ ہوا تھا۔ ایک حملے میں 4 اسرائیلی فوجی مارے گئے جب کہ لبنان میں کئی دیگرزخمی اور ہلاک بھی ہوئے۔ دونوں فریقین نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کی روشنی میں جنگ بندی پراتفاق کیا۔
جنگ بندی کوتسلیم کیا جا رہا ہے کمزور؟
اسرائیل اورلبنان کی جنگ بندی کوکافی کمزورتسلیم کیا جا رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں بنائے گئے اپنے سیکورٹی علاقے (بفرزون) سے فوج نہیں ہٹائی ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ جب تک اسرائیلی فوجی وہاں موجود رہیں گے، تب تک جدوجہد کی وجہ بنی رہے گی۔ جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود دونوں فریق کے درمیان عدم اعتماد کی صورتحال برقرارہے۔ اس صورت میں جنگ بندی سے متعلق واضح اطمینان کی صورتحال نہیں ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے دعووں کی نکل گئی ہوا
وہیں، دوسری جانب امریکہ اورایران کے درمیان جنگ بندی نافذ ہوگئی ہے، لیکن اس پورے کھیل میں امریکہ کوبڑا نقصان ہوا ہے اورایران اسے اپنی جیت بتا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ اگرجنگ جاری رہتی تویہ معاشی کساد بازاری کا باعث بنتی۔ دنیا کے تیل کے ذخائرچارہفتوں میں ختم ہو چکے ہوتے اورافراتفری پھیل جاتی۔ ٹرمپ معاہدے کی وجہ معاشی خدشات بتا رہے ہیں جبکہ ایران یہ دعویٰ کررہا ہے کہ اس کی فوج نے ٹرمپ کوہتھیارڈالنے پرمجبورکیا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرغالیباف نے کہا کہ “ہم نے امریکہ اوراسرائیل دونوں کوشکست دی ہے۔ ایران نے 4 محاذوں پردشمن کا مقابلہ کیا، امریکہ اپنے کسی بھی مقصد کوحاصل کرنے میں ناکام رہا، دشمن کوسمجھوتہ کرنے پرمجبورہونا پڑا۔” اس کے علاوہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہمارے میزائل پروگرام پرکوئی بات چیت نہیں ہوگی۔
مجبوری میں ٹرمپ نے تسلیم کیا
انہوں نے کہا کہ کوئی میزائلیں بات کرنے کے لئے نہیں حملہ کرنے کے لئے ہوتی ہیں۔ مجبوری میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مان لیا کہ انہیں ایران کے میزائل پروگرام سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ ویسے ٹرمپ کواب ایران کی کسی بھی شرط سے پریشانی نہیں ہے کیونکہ وہ بس اس بحران سے نکلنا چاہتے تھے۔ اعدادوشمار کے مطابق، ایران کی گھیرا بندی اورجنگ میں امریکہ کا ہرروزتقریباً ایک بلین ڈالرخرچ ہورہا تھا۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







