
تقریباً ایک دہائی قبل تک بھارت کو بنیادی طور پر ایک ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن آج کا بھارت ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس کی سفارتی سرگرمیوں نے عالمی سطح پر اس کی شبیہ کو مزید مضبوط کیا ہے۔ بھارت کو متعدد عالمی پلیٹ فارمز پر اپنی قیادت اور سفارتی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ 2023 میں جی-20 کی صدارت، برکس (BRICS) اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) میں فعال کردار، اور گلوبل ساؤتھ کی نمائندگی نے بھارت کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ امریکہ، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ سمیت کئی خطوں کے ممالک اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ موجودہ عالمی منظرنامے میں بھارت کو نظرانداز کرنا ایک بڑی سفارتی غلطی ثابت ہو سکتی ہے۔
جی-20 میں بھارت کی نمایاں قیادت
جی-20 کی صدارت کے دوران بھارت نے “ون ارتھ، ون فیملی، ون فیوچر” کے تصور کو فروغ دیتے ہوئے پوری دنیا کو ایک خاندان قرار دیا اور عالمی یکجہتی کا پیغام دیا۔ اسی دوران بھارت کی قیادت میں افریقی یونین کو جی-20 کا مستقل رکن بنایا گیا، جسے ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ بھارت نے جی-20 اجلاس میں ترقی پذیر ممالک کے مسائل اور خدشات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ نئی دہلی میں منعقدہ جی-20 سربراہی اجلاس سے قبل بھارت نے “وائس آف گلوبل ساؤتھ” سربراہی اجلاسوں کا انعقاد کیا، جن میں 125 سے زائد ترقی پذیر ممالک نے شرکت کی۔ ان ممالک کی ترجیحات اور توقعات کو بعد میں جی-20 کے مرکزی ایجنڈے میں شامل کیا گیا۔
برکس اور ایس سی او میں متوازن کردار
بھارت برکس اور ایس سی او دونوں میں ایک فعال اور بااثر رکن کے طور پر اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ برکس کی توسیع کے معاملے پر بھارت نے متوازن مؤقف اختیار کیا ہے۔ بھارت توسیع کی مخالفت نہیں کرتا، لیکن اس بات پر زور دیتا ہے کہ نئے ارکان کی شمولیت کا عمل شفاف اور متفقہ اصولوں کے تحت ہونا چاہیے۔ برکس کے پلیٹ فارم پر بھارت نے مقامی کرنسیوں میں تجارت اور کثیر قطبی عالمی نظام (Multipolar World Order) کے قیام کی حمایت کی ہے۔ ساتھ ہی وہ تنظیم میں کسی ایک ملک کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو متوازن رکھنے کی بھی کوشش کرتا ہے۔
کواڈ اور انڈو پیسیفک حکمتِ عملی
کواڈ (QUAD) کے تحت بھارت، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ مل کر سمندری سلامتی، سپلائی چین، جدید ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز اور انڈو پیسیفک خطے میں استحکام کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔ اس تعاون کا مقصد خطے میں آزاد، کھلا اور محفوظ بحری ماحول برقرار رکھنا بھی ہے۔
ایس سی او میں دہشت گردی کے خلاف تعاون
شنگھائی تعاون تنظیم میں بھارت کی ترجیحات میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات اور وسطی ایشیا کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ بھارت کا بیک وقت کواڈ اور ایس سی او دونوں کا حصہ ہونا اس کی متوازن اور کثیر جہتی خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت اپنی سفارتی حکمت عملی کے ذریعے مختلف عالمی بلاکس کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے ایک ایسے کردار کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں وہ عالمی چیلنجز کے حل میں اہم شراکت دار اور ترقی پذیر دنیا کی مؤثر آواز بن سکے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







