
ئی دہلی: پارٹی کے لوک سبھا اراکین پارلیمنٹ کے بغاوت کے بعد شیوسینا (یوبی ٹی) کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ اس درمیان پارٹی کے واحد رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے کہا کہ بی جے پی خوفزدہ ہے۔ 2029 تک کانگریس کے ساتھ کام کرنے والی علاقائی پارٹیوں کو وہ نہیں رکھنا چاہتی۔ انہوں نے بی جے پی پرالزام لگایا کہ یہ لوک سبھا میں 850 والا اعدادوشمارلاکر آئین میں تبدیلی کریں گے۔ آئین میں تبدیلی لاکریہ جمہوریت کو ختم کریں گے اوراس ملک میں صدارتی سسٹم لانا چاہتے ہیں۔ سنجے راوت سے جب ایک نامہ نگار نے کشورپاٹل کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا، “ان سے پوچھئے کہ کشورپاٹل کے والد کون ہیں؟ بالا صاحب ٹھاکرے ہی شیوسینا کے والد ہیں۔”
آپ کو بتا دیں کہ کشورپاٹل نے کہا تھا کہ کوئی ‘آپریشن تڑوا’ نہیں کرپائے گا۔ اراکین پارلیمنٹ کی ٹوٹ کے بعد سنجے راوت نے ہی ‘آپریشن تڑوا’ لفظ کا استعمال کیا تھا۔ کشورپاٹل کے بیان پربرہم ہوتے ہوئے شیوسینا (یوبی ٹی) کے راجیہ سبھا رکن سنجے راوت نے کہا، “یہ سب بکے ہوئے لوگ ہیں۔ یہ پیسے کے پیچھے پاگل ہوگئے ہیں۔ ان میں کوئی وقارنہیں ہے۔ گانجا پیتے ہیں۔ نشہ کرتے ہیں اور اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔”
میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، “آپ کو معلوم ہے کہ کشورپاٹل کہاں سے آتے ہیں؟ میں نہیں جانتا ہوں کہ کشور پاٹل کون ہیں؟ آج کل غداروں کی ہیڈلائن ہی چلتی ہے۔”
سنجے راوت نے مزید کہا کہ شیوسینا کو آج 60 سال ہوگئے۔ یہ بہت لمبا سفرہے۔ بہت ہی جدوجہد والا سفرہے۔ چاہے ہندو ہردے سمراٹ بالا صاحب ٹھاکرے ہوں یا ادھو ٹھاکرے ہوں، ہم سب کو جہدوجہد کرنا پڑا ہے۔ ہم یہاں تک جدوجہد کرتے ہوئے ہی پہنچے ہیں۔ ہماری پیٹھ پرکتنی بارزخم دیا گیا، آگے سے کوئی زخم نہیں کرے گا کیونکہ اتنی ہمت کسی میں نہیں ہوگی۔ کل تک ہو رہے ہیں اور آگے بھی ہوں گے۔ مہاراشٹراورمرکزمیں ہماری حکومت آئے گی، ہمارا بھی اقتدارآئے گا، تب ہم ان کو دکھائیں گے کہ کیا ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







