
امریکی محکمۂ دفاع نے اپنی اہم فوجی کمان یو ایس انڈو پیسیفک کمانڈ (USINDOPACOM) کا نام دوبارہ تبدیل کرکے یو ایس پیسیفک کمانڈ (USPACOM) رکھ دیا ہے۔ اس فیصلے کو بھارت کے لیے ایک اہم تزویراتی اشارہ سمجھا جا رہا ہے، تاہم تنازع اس وقت پیدا ہوا جب نئی کمان کے تحت جاری کیے گئے نقشے میں بھارت کی سرحدوں کو متنازع انداز میں دکھایا گیا۔
’ایریا آف ریسپانسبلٹی میپ‘ میں کیا دکھایا گیا؟
یو ایس پیسیفک کمانڈ کی ویب سائٹ پر موجود ’ایریا آف ریسپانسبلٹی میپ‘ میں پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر (PoK) کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ نقشے میں بھارت کو ہلکے سبز رنگ میں ظاہر کیا گیا، لیکن جموں و کشمیر کے شمالی اور مغربی علاقوں، بشمول پی او کے اور اکسائی چن، کو بھارت کے مرکزی نقشے سے الگ دکھایا گیا ہے۔ امریکہ نے آٹھ سال قبل اپنی فوجی کمان کا نام پیسیفک کمانڈ سے بدل کر انڈو پیسیفک کمانڈ رکھا تھا، تاہم اب اسے دوبارہ پرانے نام پر واپس لے آیا ہے۔ اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی وار ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ نام کی بحالی کا مقصد کمان کی تاریخی شناخت اور ادارہ جاتی ورثے کا احترام کرنا ہے۔
محکمے کے مطابق، USPACOM نام کی واپسی سے کمان کی گہری تاریخی جڑوں کو تسلیم کیا گیا ہے اور بحرالکاہل کے خطے میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں میں فخر اور مشترکہ جذبے کو فروغ ملے گا۔ حکام نے واضح کیا کہ نام کی تبدیلی سے کمان کی آپریشنل ذمہ داریوں، تزویراتی مشن یا جغرافیائی دائرہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔بیان کے مطابق، کمان کا دائرۂ اختیار امریکہ کے مغربی ساحل سے لے کر بھارت کی مغربی سرحد تک پھیلا رہے گا اور خطے میں ’آزاد اور کھلے ماحول‘ کو برقرار رکھنے کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا۔
جموں و کشمیر کے بعض حصوں کو بھارت سے الگ دکھایا جانا نئی دہلی کے لیے تشویش کا باعث
بھارت اپنی زمینی اور سمندری سرحدوں کو ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ سمجھتا ہے، ایسے میں امریکی فوجی کمان کی جانب سے جاری نقشے میں جموں و کشمیر کے بعض حصوں کو بھارت سے الگ دکھایا جانا نئی دہلی کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ واضح رہے کہ یکم جنوری 1947 کو صدر ہیری ایس ٹرومین کے دور میں قائم ہونے والی یہ کمان امریکی فوج کی قدیم ترین اور سب سے بڑی مشترکہ جنگی کمانوں میں شمار ہوتی ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







