
ایودھیا واقع رام مندرمیں مبینہ چندہ چوری اورفنڈزکے غبن سے متعلق بی جے پی کے سینئرلیڈراورسابق رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ نے بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگررام جنم بھومی تحریک سے وابستہ لوگ اس مسئلہ کواٹھا رہے ہیں توحکومت کواسے سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’دھوئیں کے بغیرآگ نہیں لگتی‘‘ اورجوسوالات اٹھائے جارہے ہیں ان کی غیرجانبداری سے تحقیقات ہونی چاہئے۔
گونڈہ میں برج بھوشن شرن سنگھ نے رام مندر تحریک سے اپنی طویل وابستگی کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی طالب علمی ایودھیا میں گزاری اورتحریک کے تقریباً تمام اہم لیڈروں سے ان کے روابط تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا کی گاڑی کوچلایا تھا اورکارسیوکوں پرگولی چلنے سے پہلے انہیں گرفتاربھی کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بابری مسجد کا انہدام ہوا تھا، اس معاملے میں نامزد ملزمین میں بھی وہ شامل رہے تھے۔
رام مندرتحریک سے منسلک لوگ اٹھا رہے ہیں سوال: برج بھوشن سنگھ
برج بھوشن سنگھ نے کہا کہ سابق رکن پارلیمنٹ ونے کٹیاراورتحریک سے وابستہ دیگرلوگ ٹرسٹ کے طریقہ کار پرسوال اٹھا رہے ہیں تو ان کی باتوں کو ہلکے میں نہیں لیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کے سوالوں میں دم ہے اورحکومت کوپورے معاملے کی تہہ تک جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اب صرف ٹرسٹ تک محدود نہیں رہ گیا ہے۔ اس کی انگلی مرکزی حکومت اورریاستی حکومت تک اٹھ رہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وزیراعظم نریندرمودی اوروزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اس معاملے کوسنجیدگی سے لے رہے ہیں اور جلد ہی سچائی ملک کے سامنے آئے گی۔
انتظام وانصرام دیکھنے والے لوگ جواب دیں، بی جے پی لیڈر کا مطالبہ
سابق رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ اس تنازعہ سے رام مندر تحریک سے وابستہ لوگوں کو نہیں بلکہ مندر کا انتظام وانصرام سنبھالنے والے لوگوں کو جواب دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کے دستاویز اور الزام سامنے آرہے ہیں، اس سے عقیدت مندوں کے درمیان سوال پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بہت بڑا جھٹکا لگا ہے، لیکن یہ جھٹکا ونے کٹیار یا برج بھوشن سنگھ نے نہیں دیا ہے۔ جو لوگ انتظام وانصرام سے منسلک ہیں، انہیں کی وجہ سے سوال کھڑے ہوئے ہیں۔
ایودھیا میں بی جے پی کی ہار پربھی اٹھایا سوال
برج بھوشن سنگھ نے ایودھیا میں بی جے پی کے سیاسی نقصان کا بھی ذکرکیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہئے کہ ایودھیا جیسے اہم حلقے میں پارٹی کیوں ہاری۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایودھیا میں عام لوگوں کی آوازوں اورخدشات کوطویل عرصے تک نظراندازکیا گیا۔ مندرکی تعمیراورحفاظتی انتظامات کے نام پرکئی سڑکیں بند کردی گئیں، جس سے آس پاس کے اضلاع اوردیہات میں لوگوں کے درمیان روایتی رابطے میں خلل پڑا۔ انہوں نے کہا کہ پرانی مذہبی اورسماجی روایات کو توڑا گیا، جس سے عوامی جذبات متاثرہوئے اوربی جے پی کوسیاسی نقصان ہوا۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







