
اکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ایک بار پھر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مختلف مسابقتی امتحانات میں بار بار سامنے آنے والی بے ضابطگیوں اور انتظامی خامیوں نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو متاثر کیا ہے۔
پریس کانفرنس میں انتباہ
پونے میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران دیپکے نے کہا کہ نوجوان اب خاموش نہیں رہیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر 13 جون تک وزیرِ تعلیم اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہوتے تو ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔
نیٹ تنازع اور طلبہ کے مسائل
دیپکے نے دعویٰ کیا کہ نیٹ (NEET) امتحان سے متعلق مسائل کے باعث کئی طلبہ نے خودکشی تک کی ہے۔ ان کے مطابق نیٹ، سی بی ایس ای (CBSE) اور سی یو ای ٹی (CUET) جیسے امتحانات میں پیش آنے والی بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبہ متاثر ہوئے ہیں، لیکن اب تک کسی نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
جنتر منتر پر احتجاج
انہوں نے یاد دلایا کہ 6 جون کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا تھا۔ دیپکے کا کہنا تھا کہ تعلیمی نظام کی ناکامیوں کی ذمہ داری کسی نہ کسی کو قبول کرنی ہوگی۔
تحریک کا لائحۂ عمل
ابھیجیت دیپکے نے بتایا کہ اگر وزیرِ تعلیم نے استعفیٰ نہ دیا تو تحریک کا آغاز پونے سے کیا جائے گا۔ 11 جون کو شام 4 بجے پونے میں پُرامن احتجاج ہوگا، جس کے بعد لکھنؤ، امرتسر، جے پور اور بنگلورو سمیت دیگر شہروں میں بھی مظاہرے منعقد کیے جائیں گے۔
طلبہ کا مستقبل داؤ پر
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپر لیک، سرور فیل ہونے اور دیگر تکنیکی و انتظامی خرابیوں نے طلبہ کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ دیپکے نے کہا کہ اگر وزیرِ تعلیم نے استعفیٰ نہیں دیا تو 20 جون کو ملک بھر کے طلبہ دہلی پہنچ کر بڑے پیمانے پر احتجاج کریں گے۔
وزیراعظم سے اپیل
دیپکے نے وزیراعظم نریندر مودی سے بھی مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ روس-یوکرین جنگ جیسے عالمی معاملات میں ثالثی کی کوشش کر سکتے ہیں تو تعلیمی نظام سے متعلق اس مسئلے کے حل اور وزیرِ تعلیم کے استعفے کو یقینی بنانا بھی ان کے لیے مشکل نہیں ہونا چاہیے۔







