
وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز کیرالہ اسمبلی انتخابات سے قبل بائیں بازو کے اتحاد (ایل ڈی ایف) اور کانگریس پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ دونوں پارٹیاں اپنے ووٹ بینک کو محفوظ رکھنے کے لیے انتہا پسند عناصر کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیرالہ میں منمبم جیسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جو ریاست کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
منمبم تنازعہ اور اقلیتی برادریوں کا مسئلہ
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے منمبم وقف تنازعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں سینکڑوں ہندو اور عیسائی خاندانوں کو دھمکیوں اور بے دخلی کے خطرات کا سامنا ہے، مگر ریاستی حکومت متاثرین کی مدد کرنے کے بجائے مبینہ طور پر شدت پسند عناصر کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ یہ تنازعہ تقریباً 600 خاندانوں سے جڑا ہوا ہے، جن میں زیادہ تر عیسائی برادری سے تعلق رکھتے ہیں، اور وہ 404 ایکڑ زمین پر ملکیت کے دعوے کے سبب بے دخلی کے خدشے سے دوچار ہیں۔ وقف بورڈ کی جانب سے ملکیت کے دعوے اور ’’وقف بائی یوزر‘‘ جیسے قوانین نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس پر عدالت عظمیٰ میں بھی غور جاری ہے۔
ترقی کے دعوے اور این ڈی اے ماڈل کی مثالیں
وزیراعظم مودی نے کہا کہ اگر کیرالہ میں این ڈی اے کی حکومت قائم ہوتی ہے تو ریاست ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہے۔ انہوں نے شمال مشرقی ریاستوں اور گوا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جہاں این ڈی اے حکومتیں قائم ہیں، وہاں ترقی کے وہ کام انجام دیے گئے ہیں جو گزشتہ 50 سے 60 برسوں میں نہیں ہوسکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شمال مشرق میں عیسائی برادری کی بڑی تعداد کے باوجود این ڈی اے حکومتوں نے سب کو ساتھ لے کر ترقی کو فروغ دیا ہے، جبکہ گوا میں بھی مسلسل بی جے پی-این ڈی اے حکومت نے ریاست کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھا ہے۔
ریاستی حکومت پر بنیادی سہولیات کی کمی کا الزام
وزیراعظم نے کیرالہ کی موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف حکومتوں نے ریاست کے کئی علاقوں کو نظر انداز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی حالت خراب ہے، کئی برسوں سے کوئی بڑا پل تعمیر نہیں ہوا اور طبی اداروں کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جہاں بنیادی سہولیات کی اس قدر کمی ہو، وہاں عوام کے معیارِ زندگی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔‘‘ وزیراعظم کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب کیرالہ میں انتخابی مہم اپنے عروج پر ہے اور ترقی، اقلیتی حقوق اور مقامی مسائل سیاسی بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ کیرالہ اسمبلی انتخابات 9 اپریل کو منعقد ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی، اور تمام بڑی سیاسی جماعتیں اقتدار حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔






