
اترپردیش حکومت نے مڈ ڈے میل اسکیم میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 558 مدارس کی جانچ کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی ایک سماجی تنظیم کی شکایت کے بعد کی گئی ہے، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ کئی مدارس میں بچوں کے لیے مختص فنڈز کے استعمال، کھانے کی تقسیم اور مستفید ہونے والے طلبہ کے ریکارڈ میں سنگین بے ضابطگیاں پائی جا رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اکھل بھارتی پسماندہ سماج منچ نے اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے مڈ ڈے میل اتھارٹی کو تفصیلی شکایتی خط ارسال کیا تھا۔ خط میں کہا گیا تھا کہ متعدد مدارس میں بچوں کے کھانے کے لیے دی جانے والی رقم کا درست استعمال نہیں ہو رہا اور کہیں کہیں فرضی اندراجات کے ذریعے سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ شکایت میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ بعض مقامات پر بچوں کو معیاری کھانا فراہم نہیں کیا جا رہا۔
شکایت موصول ہونے کے بعد مڈ ڈے میل اتھارٹی کی ڈائریکٹر مونیکا رانی نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری جانچ کے احکامات جاری کر دیے۔ جاری کردہ حکم نامے میں متعلقہ افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام مدارس کی تفصیلی جانچ کریں اور جلد از جلد اپنی رپورٹ پیش کریں۔ حکام نے واضح کیا کہ اس معاملے میں کسی بھی سطح پر لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ حکام کے مطابق جانچ کے دائرے میں کئی اہم پہلو شامل کیے گئے ہیں۔ اس میں سب سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ مدارس کو دی گئی سرکاری رقم کس طرح خرچ کی گئی۔ اس کے علاوہ کھانے کی تقسیم کا نظام، بچوں کی اصل تعداد اور مستفید ہونے والوں کے ریکارڈ کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ اگر کہیں فرضی طلبہ کے نام پر فنڈز جاری کیے گئے ہوں گے تو اس کی بھی نشاندہی کی جائے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ کھانے کے معیار، سپلائی کے نظام اور ذخیرہ اندوزی سے متعلق معاملات کی بھی جانچ کی جائے گی۔ حکام اس بات کی بھی تصدیق کریں گے کہ بچوں کو باقاعدگی سے کھانا فراہم کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ مزید یہ کہ مدارس میں موجود ریکارڈ کی شفافیت اور انتظامی نظام کا بھی معائنہ کیا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کو سامنے لایا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مڈ ڈے میل اسکیم بچوں کی تعلیم اور صحت کے لیے نہایت اہم منصوبہ ہے۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد بچوں کو غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کرنا اور تعلیمی اداروں میں ان کی حاضری بڑھانا ہے۔ ایسے میں اگر اس اسکیم میں بدعنوانی یا بے ضابطگی ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر بچوں کی صحت اور تعلیم دونوں پر پڑتا ہے۔ دوسری جانب حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جانچ مکمل ہونے کے بعد اگر کوئی ادارہ یا فرد قصوروار پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ حکام کے مطابق مالی بے ضابطگیوں کی صورت میں قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا اور بچوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔






