
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے بحران کے دوران بھارت کے لیے ایک اہم اور حوصلہ افزا خبر سامنے آئی ہے۔ تقریباً سات سال بعد ایران سے خام تیل کی پہلی کھیپ بھارت پہنچنے والی ہے، جسے توانائی سلامتی کے نقطہ نظر سے نہایت اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی پابندیوں کے باوجود یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں اور بھارت جیسے بڑے درآمد کنندہ ممالک پر اس کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق ایرانی خام تیل لے جانے والا ٹینکر “پنگ شن” بھارت کے مغربی ساحل پر واقع وڈینار بندرگاہ کی طرف بڑھ رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ رواں ہفتے کے اختتام تک وہاں پہنچ جائے گا۔ یہ جہاز تقریباً پانچ لاکھ بیرل ایرانی خام تیل لے کر روانہ ہوا ہے۔ یہ پیش رفت اس لیے بھی غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ مئی 2019 کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب بھارت ایران سے براہ راست خام تیل درآمد کرے گا۔
ذرائع کے مطابق پنگ شن نامی یہ افرامیکس ٹینکر، جو 2002 میں تیار کیا گیا تھا، مارچ کے آغاز میں ایران کے خارگ جزیرے سے خام تیل لوڈ کر کے روانہ ہوا تھا۔ شپ ٹریکنگ کمپنیوں کیپلر اور ورٹیکسا نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جہاز نے اپنے سفر کے دوران مختلف مقامات پر سگنل دیے اور اب اس کی منزل بھارت بتائی جا رہی ہے۔ اگرچہ جہاز کی حتمی منزل تبدیل بھی ہو سکتی ہے، تاہم موجودہ اطلاعات کے مطابق اس کی آمد بھارت کے لیے ایک بڑی توانائی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی تیل سپلائی کو متاثر کیا اور قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ بھارت، جو اپنی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس صورتحال سے خاص طور پر متاثر ہوا ہے۔ ایسے میں ایران سے خام تیل کی فراہمی کو ایک اہم ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
گزشتہ ماہ امریکہ نے پہلے سے لوڈ کیے گئے ایرانی خام تیل کی ترسیل پر عارضی نرمی دینے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ عالمی منڈی میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ اس اقدام کے بعد کچھ خریداروں نے محدود پیمانے پر ایرانی تیل خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ تاہم بھارتی سرکاری خریداروں نے اب تک محتاط رویہ اختیار کیا ہے کیونکہ ادائیگی، انشورنس اور شپنگ سے متعلق پیچیدگیاں اب بھی برقرار ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان مسائل کا سامنا حال ہی میں اس وقت بھی دیکھنے کو ملا جب ایرانی مائع پیٹرولیم گیس لے جانے والا ایک جہاز مینگلور بندرگاہ پہنچا، مگر ادائیگی اور دیگر انتظامی معاملات حل نہ ہونے کے باعث اسے ابھی تک خالی نہیں کیا جا سکا۔ بندرگاہ سے وابستہ ایک اہلکار کے مطابق وصول کنندہ ابھی ڈلیوری لینے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہے اور مالی معاملات پر بات چیت جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی پابندیوں میں عارضی نرمی دی گئی ہے، تاہم کئی بینک اب بھی ایرانی اداروں سے وابستہ لین دین میں حصہ لینے سے گریز کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی پابندیاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہیں اور کسی بھی لین دین میں شامل اداروں کو ممکنہ خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کی طرف رخ کرنے سے قبل اس جہاز نے چین کو اپنی منزل ظاہر کی تھی، جہاں یہ ماضی میں متعدد بار جا چکا ہے۔ تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق یہ جہاز اب بھارت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر یہ کھیپ کامیابی سے بھارت پہنچتی ہے تو یہ نہ صرف توانائی سپلائی کو مضبوط کرے گی بلکہ مستقبل میں ایران اور بھارت کے درمیان تیل تجارت کی بحالی کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہے۔







