سری نگر: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی مبینہ قلت اور ممکنہ لاک ڈاؤن سے متعلق پھیلائی جا رہی افواہوں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بے بنیاد خبروں پر یقین نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بار بار وضاحت کے باوجود لوگ سرکاری معلومات کو نظر انداز کر دیتے ہیں جبکہ افواہوں پر فوری یقین کر لیتے ہیں، جس سے غیر ضروری خوف اور بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی کوئی کمی نہیں ہے اور عوام کو گھبراہٹ میں آ کر پٹرول پمپوں یا گیس ایجنسیوں پر غیر ضروری بھیڑ نہیں لگانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر افواہوں کے باعث حالات خراب ہوتے رہے تو حکومت کو کچھ وقت کے لیے پٹرول پمپ بند کرنے جیسے سخت اقدامات بھی کرنے پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ اطلاع جاری کی جاتی ہے تو لوگ اس پر توجہ نہیں دیتے، لیکن سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غیر مصدقہ اطلاعات پر فوری یقین کر لیتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری معلومات پر ہی اعتماد کریں۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے طلب کی گئی ایک آن لائن میٹنگ میں وہ بھی شرکت کریں گے، جس میں ایران اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم اس کا ملک میں ایندھن کی فراہمی پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ پاکستان کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ ثالثی کے سوال پر عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر پاکستان کے دونوں ممالک سے اچھے تعلقات ہیں اور وہ ثالثی کرنا چاہتا ہے تو اس میں کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بات چیت کے ذریعے کشیدگی کم ہو سکتی ہے تو یہ مثبت پیش رفت ہوگی۔
ادھر مرکزی حکومت نے بھی واضح کیا ہے کہ ملک میں پٹرول، ڈیزل اور گھریلو گیس کی کوئی کمی نہیں ہے۔ حکومت کے مطابق ملک کے پاس تقریباً 60 دن کا ایندھن ذخیرہ موجود ہے اور تمام پٹرول پمپوں پر وافر مقدار میں ایندھن دستیاب ہے۔ حکومت نے ایندھن کی کمی سے متعلق خبروں کو منظم غلط معلومات کی مہم قرار دیا ہے جس کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا ہے۔ پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت پیٹرولیم مصنوعات کی ریفائننگ کے لحاظ سے دنیا میں نمایاں مقام رکھتا ہے اور گھریلو ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ 150 سے زائد ممالک کو ریفائن ایندھن برآمد کرتا ہے۔ وزارت کے مطابق ملک کی تمام ریفائنریز مکمل صلاحیت سے زیادہ پیداوار پر کام کر رہی ہیں، جس سے ملک میں ایندھن کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔







