
نئی دہلی: بھارتی بحریہ کی جنگی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہونے جا رہا ہے، کیونکہ رافیل مرین فائٹر جیٹس کی فراہمی مقررہ وقت سے پہلے شروع ہونے کی توقع ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق بھارتی بحریہ کو رافیل مرین ٹرینر جیٹس 2028 کے بجائے 2026 میں ہی ملنا شروع ہو جائیں گے، جس سے بحریہ کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس لڑاکا طیاروں کے استعمال کی تیاری کا موقع ملے گا اور سمندری دفاعی نظام مزید مضبوط ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرینر جیٹس کی جلد فراہمی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہیں طیارہ بردار جہازوں کے مطابق خصوصی تبدیلیوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان طیاروں کا بنیادی مقصد پائلٹوں اور تکنیکی عملے کو جدید ایویونکس، ہتھیاروں کے نظام اور جدید جنگی حکمت عملی کی تربیت دینا ہے۔ اس پیشگی تربیت سے بحریہ کو یہ فائدہ ہوگا کہ مکمل جنگی رافیل طیارے 2028 میں ملتے ہی فوری طور پر آپریشنل کیے جا سکیں گے۔ رافیل مرین جیٹس جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہوں گے، جن میں طویل فاصلے تک مار کرنے والی میٹیور ایئر ٹو ایئر میزائل اور ایکزو سیٹ اینٹی شپ میزائل شامل ہیں۔ یہ ہتھیار بھارتی بحریہ کی سمندری جنگی صلاحیت کو نمایاں طور پر بڑھائیں گے اور دشمن کے جہازوں اور فضائی خطرات سے نمٹنے میں مدد فراہم کریں گے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ طیارے مستقبل میں روسی ساختہ مگ 29 کے لڑاکا طیاروں کی جگہ لیں گے، جو اس وقت بھارتی بحریہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ان جدید رافیل مرین جیٹس کو بھارتی بحریہ کے دو اہم طیارہ بردار بحری جہازوں، آئی این ایس وکرانت اور آئی این ایس وکرمادتیہ پر تعینات کیا جائے گا۔ ان جہازوں پر جدید طیاروں کی تعیناتی سے بھارتی بحریہ کی سمندری نگرانی اور جنگی صلاحیت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بحر ہند کے خطے میں بھارت کی اسٹریٹجک پوزیشن کو مزید مضبوط کرے گا۔ ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ رافیل مرین جیٹس کے تقریباً 80 فیصد پرزے بھارتی فضائیہ میں پہلے سے موجود رافیل طیاروں سے مماثلت رکھتے ہیں۔ اس سے نہ صرف دیکھ بھال اور مرمت آسان ہوگی بلکہ لاجسٹک نظام بھی زیادہ موثر بن سکے گا۔ بھارت اور فرانس نے 2030 تک تمام 26 طیاروں کی فراہمی مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے اور اگر 2026 میں ٹرینر جیٹس مل جاتے ہیں تو یہ بھارتی بحریہ کی طاقت میں اضافے کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھی جائے گی۔





