
گجرات ہائی کورٹ نے بیف کا گوشت (بھینس کا گوشت) رکھنے کے الزام میں 7 سال کی سخت قید کی سزا کاٹ رہی ایک خاتون کی سزا کو معطل کردیا ہے۔ عدالت نے پولیس جانچ میں سنگین خامیوں، طریقہ کارکی خرابیوں اورفورنسک رپورٹ (ایف ایس ایل) میں خامیوں کودیکھتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے اپیل زیرالتوا رہنے تک خاتون کی مشروط ضمانت بھی منظورکرلی ہے۔
جولائی 2023 میں داہود پولیس نے ایک گھرپرچھاپہ ماری کی تھی، جہاں سے مبینہ طورپر6 کلوگرام گوشت برآمد ہوئی تھی۔ نچلی عدالت (داہود کے ایڈیشنل سیشن جج) نے 4 نومبر2025 کو ملزم خاتون محمودہ حیات کوگجرات اینیمل پروٹیکشن ایکٹ کے تحت قصوروارقراردیتے ہوئے 7 سال قید اورایک لاکھ روپئے کے جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔
ہائی کورٹ میں کھل گئی پولیس کی پول
ملزم خاتون کے وکیل الطاف چرخا نے پولیس کی تفتیش پرکئی سنگین سوالات اٹھائے، جنہیں ہائی کورٹ نے پہلی نظرمیں درست پایا۔ ایف ایس ایل رپورٹ کی تاریخ 7 جولائی 2023 تھی، جب کہ ایف آئی آر8 جولائی کودرج کی گئی تھی۔ رپورٹ میں تضادات بھی ہیں، تین میں سے دونمونوں کی شناخت گائے اورایک بھینس کے طورپرکی گئی ہے۔ پولیس نے مجسٹریٹ سے اجازت لئے بغیر”برآمد گوشت” کوبرباد کردیا، جو گجرات اینیمل پروٹیکشن ایکٹ کے ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔ گواہوں کے بیانات میں بھی تال میل نہیں تھا۔ ایک گواہ نے اعتراف کیا کہ اس نے پولیس اسٹیشن میں دستخط کئے تھے، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ پنچ نامہ بعد میں تیارکیا گیا۔ پولیس یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ جس گھرمیں چھاپہ ماری ہوئی، اس کی مالکن ملزم خاتون ہی تھی۔ ساتھ ہی بھیڑ بھاڑ والا علاقہ ہونے کے باوجود کسی آزاد گواہ کو شامل نہیں کیا گیا۔
عدالت نے کیا سخت تبصرہ
جسٹس ایس وی پنٹونے اپنے حکم میں کہا کہ اس کیس میں سنگین طریقہ کارکی بے ضابطگیاں اورایف آئی آردرج کرنے میں تاخیرشامل ہے، جس سے استغاثہ کے کیس پرسنگین شکوک پیدا ہوئے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ایسے حالات میں ٹرائل کورٹ کی سزا کوبرقرارنہیں رکھا جا سکتا۔ عدالت نے خاتون کی سزا کواپیل کے نمٹارے تک معطل کردیا اوراسے 10,000 روپئے کے نجی مچلکے پررہا کرنے کا حکم دیا۔







