
نئی دہلی: لوک سبھا میں اسپیکراوم برلا پرکاغذ پھینکنے والے اراکین پارلیمنٹ کوپورے بجٹ سیشن کے لئے معطل کردیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ ان اراکین پارلیمنٹ نے اسپیکرکی کرسی کے پاس جا کرپیپراچھالے تھے۔ زبردست ہنگامہ آرائی کے بعد ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔ پارلیمنٹ کی کارروائی کو کل تک کے لئے ملتوی کردی گئی ہے۔ اس طرح سے راہل گاندھی ایک بار پھر لوک سبھا میں نہیں بول سکے اورآج چوتھی بارایوان کی کارروائی آئندہ روز تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔
معطل اراکین پارلیمنٹ کے نام
پیپرپھینکنے کے الزام میں اپوزیشن کے 8 اراکین پارلیمنٹ کو معطل کردیا گیا ہے۔ اراکین پارلیمنٹ کو معطل کئے جانے کے بعد اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے لوک سبھا کے باہر احتجاج کیا۔ اس احتجاج میں اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی، پرینکا گاندھی سمیت کئی اہم لیڈران بھی شامل رہے۔ گرجیت اوجلا، منیکم ٹیگور، امریندرسنگھ راجا وڈنگ، ڈییان کریاکوس، کرن کمارریڈی، وینکٹیشورن، پرشانت پوڈولے اورہربی ایڈن کو معطل کیا گیا ہے۔
مجھے بولنے سے کیوں روکا جا رہا ہے: راہل گاندھی نے پوچھا سوال
لوک سبھا میں بولتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا، ”صدرجمہوریہ کے خطاب میں ایک بہت ہی اہم موضوع قومی سلامتی سے متعلق ہے۔ پاکستان، چین اورہمارے درمیان تعلقات سے متعلق ایک بہت ہی اہم نکتہ ہے، جس کی میں نے تصدیق کی ہے۔ اس میں وزیراعظم کے ردعمل کا ذکرہے۔ ہمارے صدرجمہوریہ کا خطاب ہندوستان کے موجودہ مستقبل کے راستے سے متعلق تھا۔ عالمی اسٹیج پر، بین الاقوامی معاملوں کا اہم موضوع چین اورامریکہ کے درمیان جدوجہد کا ہے۔ یہ ہمارے صدرجمہوریہ کی تقریرکا مرکزی پہلوہے۔ میں بس اتنا کہہ رہا ہوں کہ مجھے چین اور ہندوستان کے درمیان جو کچھ ہوا اوراس پرہمارے وزیراعظم کا کیا ردعمل تھا، اس پربولنے دیجئے۔ مجھے کیوں روکا جا رہا ہے؟”
بھارت-امریکہ ٹریڈ ڈیل پرحکومت-اپوزیشن آمنے سامنے
اس سے قبل، بھارت-امریکہ ٹریڈ ڈیل سے متعلق وزیراعظم نریندرمودی اورحکومت پرتنقید کرنے کی کوشش کررہے کانگریس اوردیگراپوزیشن پارٹیوں کے اراکین نے منگل کے روزلوک سبھا میں ہنگامہ کیا، جس کے بعد ایوان کی کارروائی شروع ہونے کے کچھ منٹ بعد ہی دوپہر12 بجے تک ملتوی کردی گئی۔ کارروائی شروع ہونے کے بعد بھی ہنگامہ جاری رہا۔ اس کے بعد ایوان کی کارروائی 2 بجے تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔ اس کے بعد راہل گاندھی 2 بجے پھربولنے کے لئے کھڑے ہوئے، توانہوں نے ایک بارپھرچین کا موضوع اٹھایا۔ اس پرکرن رجیجونے اعتراض ظاہرکیا اورراہل گاندھی کوبولنے سے روکا گیا۔ ہنگامہ ہوا اورایوان کی کارروائی کوملتوی کردی گئی۔ وہیں جب تین بجے کارروائی پھرشروع ہوئی تو پیپرپھینکنے والے اراکین پارلیمنٹ کوپورے سیشن سے معطل کرنے کا اعلان کیا گیا۔ آپ کوبتا دیں کہ 11 بجے ایوان کی میٹنگ شروع ہونے پرلوک سبھا اسپیکراوم برلا نے سابق رکن پارلیمنٹ سروپ سنگھ ہریا نائک کی رحلت کی اطلاع دی اوراراکین نے کچھ کچھ لمحے تک خاموش رہ کرسابق رکن پارلیمنٹ کو خراج عقیدت پیش کیا۔
ایوان شروع ہوتے ہی زبردست ہنگامہ آرائی
اس کے بعد اسپیکرنے جیسے ہی وقفہ سوال شروع کرایا، کانگریس سمیت اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین پارلیمنٹ نعرے بازی کرتے ہوئے اسپیکرکے سامنے آگئے۔ وہ بھارت-امریکہ ٹریڈ ڈیل کا موضوع اٹھاتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ شورشرابے کے درمیان ہی وزیرمملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے ایک رکن کے سپلیمنٹری سوال کا جواب دیا۔ اسپیکراوم برلا نے اپوزیشن اراکین سے کارروائی چلنے دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ “کیا وقفہ سوالات کے دوران منظم طریقے سے آسن کے قریب آنے اورنعرے لگانے کا کوئی جوازہے؟ یہ اراکین کا وقت ہے۔ اراکین پارلیمنٹ اس دوران حکومت کوجوابدہ ٹھہراتے ہوئے سوال اٹھاتے ہیں۔”







