
ارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا آج (2 فروری) چوتھا دن ہے۔ چوتھا دن کافی ہنگامہ خیزرہا۔ لوک سبھا میں صدرجمہوریہ کے خطاب پراظہارتشکرتجویزپربحث کے دوران اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے درمیان سخت نوک جھونک ہوئی۔ معاملہ ڈوکلام اورچین کی دراندازی سے متعلق تھا، جس پرراہل گاندھی نے سابق آرمی چیف جنرل نرونے کے حوالے سے ایک دعویٰ کیا، جس پربرسراقتدار پارٹی کے اراکین نے اعتراض کیا۔ راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں ڈوکلام تنازعہ پربولتے ہوئے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کے یاد داشت کا ذکرکرنا شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جانکاری 100 فیصد درست ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اس کتاب کو شائع نہیں ہونے دے رہی ہے۔
راجناتھ سنگھ اورامت شاہ نے کیا پلٹ وار
وزیردفاع راجناتھ سنگھ فوراً اپنی سیٹ سے کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ راہل گاندھی ایوان کو گمراہ کررہے ہیں۔ جس کتاب کا وہ حوالہ دے رہے ہیں، وہ شائع ہی نہیں ہوئی ہے۔ جو چیزعوام کے درمیان نہیں ہے، اس کا ذکریہاں کیسے کیا جاسکتا ہے؟ کیا یہ معتبر ہے؟ وزیرداخلہ امت شاہ نے بھی مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ تنازعہ راہل گاندھی نے خود ختم کردیا ہے۔ کیونکہ وہ خود مان رہے ہیں کہ کتاب شائع نہیں ہوئی ہے۔
راہل گاندھی نے ڈوکلام سے متعلق کہی یہ بات
راہل گاندھی نے اپنے خطاب کی شروعات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے وقت دینے کے لئے ایوان کا شکریہ۔ انہوں نے مزید کہا کہ برسراقتدار کے اراکین کی طرف سے کئی الزام کانگریس پر لگائے گئے ہیں۔ میں اس بارے میں ابھی کوئی بات نہیں کروں گا۔ اس کے بجائے میں کچھ پڑھ کرشروع کررہا ہوں، جوکہ آرمی چیف نرونے کی یادگارہے۔ آپ سب دھیان سے سنیں کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں، اس سے پتہ چل جائے گا کہ کون محب وطن ہے اورکون نہیں ہے۔ راہل گاندھی کے اتنا کہتے ہی ہنگامہ شروع ہوگیا۔ وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے کھڑے ہوکرراہل گاندھی کے بیان اورکتاب کی مخالفت بھی کی۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ راہل گاندھی جس کتاب کا ذکر رہے ہیں، وہ آج تک شائع ہی نہیں ہوئی ہے۔ کیسے مانا جائے کہ اس کتاب میں لکھا کیا ہے؟
وزیرخزانہ نرملا سیتا رمن دیں گی جواب
اپوزیشن کے بعد 4 جنوری کووزیراعظم جواب دیں گے۔ اس کے ساتھ ہی وزیرخزانہ نرملا سیتا رمن 11 فروری کو بجٹ سے متعلق سبھی سوالوں کا جواب بھی دے سکتی ہیں۔ آپ کو بتا دیں کہ پارلیمنٹ میں یکم فروری کووزیرخزانہ نرملا سیتا رمن نے بجٹ پیش کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے 85 منٹ کی تقریرکی تھی اوربجٹ 2026 پیش کیا تھا۔ بجٹ پیش کرنے کے بعد جہاں ایک طرف برسراقتدارپارٹی کے اراکین بجٹ کی تعریف کررہے ہیں تو وہیں اپوزیشن لیڈران نے بجٹ کوغریب مخالف قراردیا ہے اورحکومت کے پاس غریبی ہٹانے کے لئے اورغریبوں کو راحت دینے کے لئے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔






