
نئی دہلی: ساکیت کورٹ نے دہلی کے موجودہ لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کو سماجی کارکن میدھا پاٹکر کی جانب سے دائر کیے گئے ہتک عزت کے مقدمے میں بری کر دیا۔ یہ کیس سن 2000 میں شائع ہونے والے ایک اشتہار سے متعلق تھا، جس میں سکسینہ اس وقت نیشنل کونسل فار سول لبرٹیز (NCCL) کے صدر تھے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس راگھو شرما نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ استغاثہ الزامات کو معقول شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت نے سکسینہ کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا۔ فیصلہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سنایا گیا۔
کیس کا پس منظر کیا تھا؟
یہ مقدمہ ایک انگریزی اخبار میں 10 نومبر 2000 کو شائع ہونے والے اشتہار سے جڑا تھا، جس میں نرمدہ بچاؤ آندولن (NBA) سے متعلق کچھ دستاویزات شائع کی گئی تھیں۔ میدھا پاٹکر کا الزام تھا کہ یہ اشتہار جھوٹا اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والا ہے۔ سکسینہ کے وکلا نے عدالت میں دلیل دی کہ یہ اشتہار عوامی مفاد میں جاری کیا گیا تھا اور اس میں شائع کی گئی دستاویزات درست اور قابل تصدیق تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ این سی سی ایل قومی اور سماجی اہمیت کے امور پر کام کرتی ہے اور اشتہار کا مقصد عوام کو آگاہ کرنا تھا، نہ کہ کسی کی کردارکشی۔
این بی اے اور دستاویزات سے متعلق وضاحت
عدالت کو بتایا گیا کہ اشتہار میں نرمدہ بچاؤ آندولن کے بعض داخلی خطوط اور رسیدیں شامل تھیں، جو خود تنظیم کے حامیوں کی جانب سے جاری کردہ تھیں۔ وکلا نے واضح کیا کہ اشتہار میں قومی سلامتی یا ریاستی راز افشا کرنے سے متعلق کوئی الزام نہیں لگایا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں عدالت نے وی کے سکسینہ کی جانب سے دائر ایک دوسرے ہتک عزت کیس میں میدھا پاٹکر کو بھی بری کر دیا تھا۔ اس فیصلے کو دونوں فریقین کے لیے قانونی طور پر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔






