
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز بھارت اور یورپی یونین (ای یو) کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کے اعلان کے موقع پر کہا کہ یہ معاہدہ محض ایک تجارتی سمجھوتہ نہیں بلکہ مشترکہ خوشحالی کا نیا بلیو پرنٹ ہے۔ انہوں نے اسے بھارت کی تاریخ کا سب سے بڑا آزاد تجارتی معاہدہ قرار دیا۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اس ایف ٹی اے میں یورپی یونین کے تمام 27 ممالک شامل ہیں، جو اسے وسعت اور اثر کے اعتبار سے غیر معمولی بناتا ہے۔ ان کے مطابق یہ تاریخی معاہدہ بھارتی کسانوں اور چھوٹی صنعتوں کے لیے یورپی منڈیوں تک رسائی کو آسان بنائے گا، مینوفیکچرنگ کے شعبے میں نئے مواقع پیدا کرے گا اور سروسز سیکٹر کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایف ٹی اے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان سرمایہ کاری کو فروغ دے گا، نئی اختراعی شراکت داریوں کی حوصلہ افزائی کرے گا اور عالمی سپلائی چین کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ وزیر اعظم کے مطابق یہ معاہدہ صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ دونوں خطوں کے لیے مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ایک جامع خاکہ پیش کرتا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے مزید کہا کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تعاون پوری دنیا کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کثیرالجہتی نظام اور بین الاقوامی اصولوں کا احترام دونوں فریقین کی مشترکہ روایت ہے۔ ان کے مطابق آج کے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات ناگزیر ہیں اور اس سمت میں بھارت اور ای یو ایک سوچ رکھتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت اور یورپی یونین انڈو-پیسفک سے لے کر کیریبین تک سہ فریقی منصوبوں (ٹرائی لیٹرل پروجیکٹس) کو وسعت دیں گے، جن کے ذریعے پائیدار زراعت، صاف توانائی اور خواتین کو بااختیار بنانے جیسے شعبوں کو تقویت دی جائے گی۔
وزیر اعظم کے مطابق اس وقت بھارت اور یورپی یونین کے درمیان دوطرفہ تجارت تقریباً 80 ارب یورو کی ہے، جبکہ تقریباً 8 لاکھ بھارتی شہری یورپ کے مختلف ممالک میں مقیم ہیں۔ یہ معاہدہ ان اقتصادی اور سماجی روابط کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بنے گا۔
قابلِ ذکر ہے کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے بات چیت جاری تھی۔ دونوں فریقین نے اس معاہدے کو ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ قرار دیا ہے۔ اس سے دنیا کے تقریباً دو ارب افراد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے اور عالمی معیشت کے لگ بھگ 25 فیصد حصے پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔







