
نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے ترکمان گیٹ تشدد معاملے میں ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے پتھراؤ کے الزام میں گرفتار ملزم عبیداللہ کی ضمانت منسوخ کر دی ہے۔ عدالت نے نچلی عدالت کے اس حکم کو غیر واضح اور غیر معقول قرار دیا، جس کے تحت ملزم کو ضمانت دی گئی تھی اور معاملہ از سر نو غور کے لیے سیشن عدالت کو واپس بھیج دیا۔ یہ معاملہ 6 اور 7 جنوری کی درمیانی شب پیش آئے تشدد سے متعلق ہے، جب مبینہ طور پر مسجد مسمار کیے جانے کی افواہوں کے بعد مشتعل ہجوم نے پولیس اور بلدیاتی عملے پر پتھراؤ کیا تھا۔ یہ فیصلہ جسٹس پرتیک جالان نے سنایا، جنہوں نے کہا کہ عدالت عام طور پر کسی ملزم کو دی گئی راحت میں مداخلت کرتے وقت غیر معمولی احتیاط برتتی ہے، تاہم موجودہ معاملہ ایک غیر معمولی صورت حال کا حامل ہے۔ عدالت کے مطابق ریہڑی پٹری لگانے والے عبیداللہ کو ایک ایسے حکم کے ذریعے ضمانت دی گئی، جس میں نہ تو ٹھوس وجوہات بیان کی گئیں اور نہ ہی قانونی اصولوں کا مناسب تجزیہ کیا گیا۔ نچلی عدالت نے 20 جنوری کو عبیداللہ کو ضمانت فراہم کی تھی۔
ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ ضمانت دیتے وقت استغاثہ کے دلائل پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا۔ عدالت کے مطابق ضمانت سے متعلق فیصلوں میں جن عوامل کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے، ان کا بھی درست انداز میں جائزہ نہیں لیا گیا۔ جسٹس جالان نے 21 جنوری کو جاری اپنے تحریری حکم میں کہا کہ مناسب وجوہات کی عدم موجودگی میں نچلی عدالت کا ضمانتی حکم برقرار نہیں رکھا جا سکتا، اس لیے اسے منسوخ کیا جاتا ہے اور معاملہ دوبارہ سماعت کے لیے متعلقہ سیشن عدالت کو واپس بھیجا جاتا ہے۔
یہ معاملہ رام لیلا میدان علاقے میں واقع فیض الٰہی مسجد کے قریب انسداد تجاوزات مہم کے دوران پیش آنے والے تشدد سے جڑا ہے۔ دہلی پولیس کے مطابق، 6 اور 7 جنوری کی رات سوشل میڈیا پر یہ افواہ پھیلائی گئی کہ ترکمان گیٹ کے سامنے واقع مسجد کو منہدم کیا جا رہا ہے۔ اس افواہ کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ موقع پر جمع ہو گئے اور تقریباً 125 سے 200 افراد پر مشتمل ہجوم نے پولیس اور دہلی میونسپل کارپوریشن کے اہلکاروں پر پتھر اور شیشے کی بوتلیں پھینکیں۔ پولیس کے مطابق اس تشدد میں علاقے کے تھانہ انچارج سمیت کم از کم 6 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے اضافی فورس تعینات کرنی پڑی اور بعد ازاں متعدد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔ عبیداللہ پر بھی اسی ہجوم کا حصہ ہونے اور پتھراؤ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ انسداد تجاوزات سے قبل تمام متعلقہ فریقین سے میٹنگ کی گئی تھی۔ امن کمیٹی کے ساتھ بھی اجلاس ہوا، جس میں یہ واضح کیا گیا کہ مسجد کو نہیں بلکہ ارد گرد کے تجاوزات کو ہٹایا جائے گا۔ اس دوران 120 سے 130 سے زائد علماء کے ساتھ بھی بات چیت کی گئی اور انہیں یہ بتایا گیا کہ اگر اس فیصلے سے کسی کو اعتراض ہو تو وہ اپیل کر سکتے ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے یہ واضح ہوا ہے کہ عدالت نے انصاف کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے نچلی عدالت کے غیر مناسب حکم کو چیلنج کرتے ہوئے دوبارہ سماعت کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد اب ملزم کی قانونی حیثیت پر دوبارہ غور ہوگا اور عدالت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ معاملہ مکمل شفافیت اور قانونی اصولوں کے مطابق حل ہو۔







