
پریاگ راج: پریاگ راج میلہ اتھارٹی کی جانب سے جاری نوٹس کے جواب میں سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کی طرف سے آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری جواب (اعتراض) بھیجا گیا ہے۔ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے وکیل کے ذریعے بھیجے گئے اس جواب میں میلہ اتھارٹی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے نوٹس واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اتھارٹی پر من مانی اور امتیازی سلوک اختیار کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کے وکیل نے 15 نکات میں پریاگ راج میلہ اتھارٹی کو جواب دیا ہے۔ جواب میں لکھا گیا ہے، ’’پیر کے روز آپ (میلہ اتھارٹی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس معزز اویمکتیشورانند کو بدنام اور رسوا کرنے کی بدنیتی سے جاری کیا گیا، جو من مانی، بدنیتی اور امتیازی رویے پر مبنی ہے۔‘‘
سوروپانند سرسوتی مہاراج کی وصیت کا دیا حوالہ
جواب میں شاردامٹھ دوارکا کے جگدگرو شنکراچاریہ سوامی سوروپانند سرسوتی مہاراج کی وصیت کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کے شنکراچاریہ ہونے سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کا جواب پیش کیا گیا ہے۔
یکم جولائی 2021 کو شنکراچاریہ مقرر کیا گیا
جواب میں کہا گیا ہے، ’’یکم جولائی 2021 کو ایک اعلامیہ کے ذریعے سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کو جیوتش پیٹھ جیوتیرمٹھ کا جگدگرو شنکراچاریہ مقرر کیا گیا۔ 12 اکتوبر 2022 کو برہملین جگدگرو شنکراچاریہ کی وصیت اور اعلان کی پیروی کرتے ہوئے، سبھدانند برہماچاریہ کی جانب سے سوامی اویمکتیشورانند کا جیوتش پیٹھ جیوتیرمٹھ کے جگدگرو شنکراچاریہ کے طور پر پٹّابھشیک اور دیگر مذہبی رسومات کے ذریعے تقرر اور استحکام عمل میں آیا۔ یہ تمام رسومات مقررہ ویدک منتروں کے جاپ کے درمیان، لاکھوں افراد کی موجودگی میں پرمہانسی گنگا آشرم میں انجام دی گئیں۔‘‘
معاشی، سماجی اور ساکھ سے متعلق ہوا نقصان
مزید کہا گیا ہے، ’’یہ جھوٹے الزامات پھیلائے جا رہے ہیں کہ اویمکتیشورانند کو جگدگرو شنکراچاریہ کے لقب کے استعمال کا حق نہیں ہے، جس کے باعث حکام اور عام عوام میں اویمکتیشورانند کی جیوتش پیٹھ کے جگدگرو شنکراچاریہ کے طور پر تقرری کی قانونی حیثیت کے بارے میں کنفیوژن پیدا ہو گیا ہے۔ میلہ اتھارٹی کے نوٹس کے سبب سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کو شدید مالی، سماجی اور ساکھ سے متعلق نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس سے ان کی عزت، وقار اور مذہبی رسومات سے جڑے معاشی معاملوں پر اثر پڑا ہے۔‘‘
اویمکتیشورانند کو جاری نوٹس واپس لینے کی اپیل
سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کی جانب سے درخواست کی گئی ہے کہ پیر کے روز جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر نوٹس واپس نہیں لیا گیا تو جگدگرو شنکراچاریہ ادارے اور سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کو بدنام اور رسوا کرنے کے ذمہ دار تمام افراد کے خلاف مناسب یا کسی بھی طرح کی قانونی کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔







