
مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں ایک مسلم لڑکی نے مذہب اسلام چھوڑکرہندودھرم کواپنالیا ہے۔ ساتھ ہی اس نے اپنے عاشق کے ساتھ سات پھیرے لے لئے۔ لڑکی نے اپنی فیملی سے بغاوت کرتے ہوئے یہ فیصلہ لیا ہے۔ اس نے اپنی مرضی سے یہ فیصلہ لیا ہے۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد لوگ اس پرخوب بحث کررہے ہیں۔ قابل ذکرہے کہ مدھیہ پردیش کے کھنڈوا ضلع کے مہادیوگڑھ مندرمیں ایک بارپھرمذہب تبدیلی اورشادی سے متعلق لوگوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ یہاں ایک مسلم لڑکی نے ہندو دھرم میں شامل ہوکرہندونوجوان سے ویدک رسم ورواج کے ساتھ شادی کی۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ لڑکی نے اپنی مرضی اورعقیدت کی بنیاد پرلیا ہے۔
لڑکی کا نام سفینہ ہے، جومدھیہ پردیش کے چھندواڑہ ضلع کی رہنے والی ہے۔ مہادیوگڑھ پہنچنے کے بعد اس نے مہادیوگڑھ کے ڈائریکٹراشوک پالیوال سے ملاقات کی۔ اس کے بعد مندر احاطے میں مذہبی رسومات ادا کی گئیں۔ جہاں ویدک جاپ اوررسومات کے ساتھ، لڑکی سناتن دھرم میں شامل ہوگئی۔ اس دوران سفینہ نے اپنا نام بدل کرسمرن رکھ لیا۔
بچپن سے پیارکرنے کا دعویٰ
مذہب تبدیلی کے بعد سمرن نے اپنے بچپن کے دوست سنت کمارٹھاکرسے شادی کرلی۔ شادی تقریب مہادیوگڑھ مندراحاطے میں منعقد کی گئی، جہاں ویدک روایات کے مطابق سات پھیرے اور ورمالا کی رسم پوری کی گئی۔ مندرسمیتی اورمہادیوگڑھ کی ٹیم کی موجودگی میں یہ پورا انعقاد کیا گیا۔ سفینہ سے سمرن بنی لڑکی نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ اسے سناتن دھرم کے تئیں لمبے وقت سے خصوصی لگاورہا ہے۔ اس نے بتایا کہ مختلف ممالک میں خواتین کے ساتھ ہونے والے مظالم کی خبریں اسے مسلسل پریشان کرتی تھیں، اس لئے اس نے سناتن دھرم اپنانے کا فیصلہ کیا۔ سفینہ یا سمرن کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اس کے لئے آسان نہیں تھا۔ اہل خانہ سے بغاوت کرکے اس نے نئی زندگی کی شروعات کرنے کا فیصلہ لیا۔ اس نے کسی دباو یا لالچ میں آکر نہیں بلکہ اپنی مرضی سے سناتن دھرم اپنایا ہے اورشادی کی ہے۔
مہادیوگڑھ سمیتی نے دیا تعاون
مہادیوگڑھ کے ڈائریکٹراشوک پالیوال نے بتایا کہ لڑکی کی خواہش کے مطابق، سبھی مذہبی عمل پوری کی گئیں۔ سمیتی کی طرف سے نوشادی شدہ جوڑے کورام چرت مانس بھینٹ کی گئی اور ان کے شادی شدہ زندگی کے خوش حال ہونے کی دعا دی گئی۔ پالیوال نے کہا کہ مہادیوگڑھ میں آنے والے ہرشخص کی عقیدت اورفیصلے کا احترام کیا جاتا ہے۔







