
مالدہ: بھارت کی ریلوے تاریخ میں ایک نیا باب شامل ہو گیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ملک کی پہلی وندے بھارت سلیپر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ یہ جدید ترین ٹرین ہاوڑہ اور گوہاٹی کے درمیان چلے گی اور شمال مشرقی و مشرقی بھارت کے درمیان رابطے کو مضبوط بنائے گی۔ ریلوے وزارت کے مطابق، اس سروس سے نہ صرف مسافروں کو تیز اور آرام دہ سفر کی سہولت ملے گی بلکہ سیاحت اور تجارت کو بھی بڑا فروغ حاصل ہوگا۔
مکمل طور پر ایئرکنڈیشنڈ اس ٹرین میں مجموعی طور پر 16 کوچ شامل ہیں، جن میں ایک ساتھ 823 مسافروں کے سفر کی گنجائش ہے۔ ٹرین کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ تقریباً 958 سے 968 کلومیٹر کا فاصلہ صرف 14 گھنٹوں میں طے کرے گی، جو موجودہ ٹرینوں کے مقابلے میں تقریباً 2.5 سے 3 گھنٹے کم ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 180 کلومیٹر فی گھنٹہ رکھی گئی ہے، جس سے مستقبل میں اسے مزید تیز بنایا جا سکے گا۔
مسافروں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرین میں جدید سسپنشن سسٹم، خودکار دروازے اور بہتر برتھ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ سفر کے دوران مسافروں کو علاقائی پکوانوں کا ذائقہ ملے گا، جن میں بنگالی اور آسامیہ کھانے شامل ہوں گے۔ یہ ٹرین ہفتے میں چھ دن چلائی جائے گی۔
کوچوں کی تفصیل کے مطابق، اس سلیپر وندے بھارت میں 11 اے سی تھری ٹئیر، 4 اے سی ٹو ٹئیر اور 1 اے سی فرسٹ کلاس کوچ شامل ہے۔ ریلوے بورڈ نے واضح کیا ہے کہ اس ٹرین میں آر اے سی یعنی ویٹنگ سیٹ کا کوئی انتظام نہیں رکھا گیا ہے، تاکہ مسافروں کو مکمل طور پر آرام دہ سفر کا تجربہ حاصل ہو۔
کرایوں کے معاملے میں بھی حکومت نے متوسط طبقے کو مدنظر رکھا ہے۔ ریلوے وزیر اشونی ویشنو کے مطابق، جہاں ہاوڑہ-گوہاٹی کے درمیان ہوائی سفر کا کرایہ تقریباً 6 سے 8 ہزار روپے تک ہوتا ہے، وہیں وندے بھارت سلیپر ٹرین میں تھرڈ اے سی کا کرایہ کھانے سمیت تقریباً 2,300 روپے، سیکنڈ اے سی کا تقریباً 3,000 روپے اور فرسٹ اے سی کا تقریباً 3,600 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
.jpg?rect=0%2C28%2C1500%2C788&w=1200&ar=40%3A21&auto=format%2Ccompress&ogImage=true&mode=crop&enlarge=true&overlay=false&overlay_position=bottom&overlay_width=100)






