
واشنگٹن ڈی سی: وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریہ کورینا مچادو نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران اپنا نوبیل امن انعام کا تمغہ پیش کیا۔ ان کے مطابق یہ قدم وینزویلا میں آزادی اور جمہوری جدوجہد کے لیے ٹرمپ کی حمایت کے اعتراف کے طور پر اٹھایا گیا۔
’’آزادی کے لیے منفرد عزم‘‘ کی علامت
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مچادو نے کہا کہ انہوں نے یہ تمغہ صدر امریکہ کو ’’ہماری آزادی کے لیے ان کے منفرد عزم‘‘ کے اعتراف میں دیا۔ انہوں نے تاریخی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دو سو سال قبل جنرل لافایئت نے سیمون بولیوار کو جارج واشنگٹن کی تصویر والا تمغہ دیا تھا، جو دونوں اقوام کے درمیان بھائی چارے کی علامت تھا۔
تاریخ کے تسلسل کا حوالہ
مچادو کے مطابق ’’آج دو سو سال بعد بولیوار کی سرزمین کے لوگ واشنگٹن کے وارث کو نوبیل امن انعام کا تمغہ پیش کر رہے ہیں، جو آزادی کے لیے اس عزم کا اعتراف ہے۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ یہ قدم امریکا اور وینزویلا کے عوام کے تاریخی تعلقات کی علامت بھی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل
صدر ٹرمپ نے اس اقدام کو ’’باہمی احترام کا شاندار اظہار‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ماچاڈو سے ملاقات ان کے لیے باعث اعزاز تھی اور نوبیل تمغہ پیش کرنا ایک قابل قدر قدم ہے۔
وائٹ ہاؤس کی تصدیق
وائٹ ہاؤس نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں تصدیق کی کہ اوول آفس میں ہونے والی ملاقات کے دوران مچادو نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کا تمغہ پیش کیا، جسے صدر نے قبول کیا۔
نوبیل کمیٹی کا مؤقف
تاہم، ناروے کی نوبیل کمیٹی اور نوبیل انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، ایک بار نوبیل انعام دیے جانے کے بعد اسے کسی دوسرے شخص کو منتقل، شیئر یا واپس نہیں کیا جا سکتا۔ انعام اپنی اصل حیثیت میں ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔
امریکا-وینزویلا کشیدہ تعلقات کا پس منظر
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا اور وینزویلا کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکی کارروائی کے دوران سابق وینزویلا کے صدر نکولس مادرو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریز کو حراست میں لیا گیا تھا، جن پر منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت امریکا میں مقدمہ چل رہا ہے۔







