
گرین لینڈ کی وزیر نازا ناتانیئلسن نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک امریکا کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ ان کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کی اسٹریٹجک اہمیت اور اس پر کنٹرول سے متعلق دیے گئے بیانات کے بعد ناتانیئلسن نے یہ بات کہی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ گرین لینڈ کے لوگ خود کو ایک پرانے اور قابلِ اعتماد ساتھی سے دھوکہ کھایا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتِ حال نہ صرف تشویشناک ہے، بلکہ گرین لینڈ کے عوام کے لیے سمجھنا بھی مشکل ہو گیا ہے کہ اچانک ایسا رویہ کیوں اختیار کیا جا رہا ہے۔
امریکا سے تعلقات اہم، مگر خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں
نازا ناتانیئلسن نے کہا کہ گرین لینڈ امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ گرین لینڈ ایک طویل عرصے سے امریکا کا اتحادی رہا ہے اور اس نے امریکی سرمایہ کاری کا خیر مقدم بھی کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ آرکٹک خطے میں سکیورٹی اور نگرانی کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ گرین لینڈ امریکا کا حصہ بن جائے۔انہوں نے این ڈی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، “اس وقت گرین لینڈ کے لوگوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو گیا ہے کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔ ہمیں ایسا لگ رہا ہے کہ جس بڑے ساتھی پر ہم برسوں سے بھروسہ کرتے آئے ہیں، وہی ہمیں دھوکہ دے رہا ہے۔”
گرین لینڈ پر حملہ ہوا تو دنیا بدل جائے گی
گرین لینڈ کی وزیر نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے کبھی گرین لینڈ پر حملے جیسا کوئی قدم اٹھایا تو اس کے دور رس اثرات ہوں گے۔ ان کے مطابق ایسا ہوا تو موجودہ عالمی نظام مکمل طور پر بدل سکتا ہے اور بین الاقوامی تعلقات میں ایک نیا اور خطرناک موڑ آ سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گرین لینڈ کے زیادہ تر عوام آرکٹک خطے میں یورپی ممالک اور نیٹو کی مضبوط موجودگی کے حق میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ موجودگی صرف فوجی سکیورٹی کے لیے نہیں بلکہ عام شہریوں کے تحفظ اور اسٹریٹجک تعاون کے لیے بھی ضروری ہے۔
ناتانیئلسن نے کہا کہ امریکا کی دلچسپی کے پیچھے کئی عوامل ہو سکتے ہیں
ڈونالڈ ٹرمپ بارہا گرین لینڈ کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیتے رہے ہیں۔ اس حوالے سے ناتانیئلسن نے کہا کہ امریکا کی دلچسپی کے پیچھے کئی عوامل ہو سکتے ہیں، جن میں فوجی پہلو، قدرتی وسائل اور ممکنہ توسیع پسندانہ سوچ بھی شامل ہے۔واضح رہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کے تحت ایک نیم خودمختار علاقہ ہے۔ حالیہ دنوں میں گرین لینڈ، ڈنمارک اور امریکا کے درمیان مختلف سطحوں پر بات چیت ہوئی ہے، مگر ڈنمارک کے وزیر خارجہ کے مطابق ان مذاکرات کے باوجود اختلافات کم نہیں ہو سکے۔ اسی دوران ڈنمارک اور اس کے یورپی اتحادیوں نے گرین لینڈ میں فوجی تعیناتی شروع کر دی ہے، جسے آرکٹک خطے میں سکیورٹی مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔







