
جموں: ایران میں جاری پرتشدد احتجاج کے درمیان جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کے روز وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے گفتگو کی۔ وزیرِ اعلیٰ نے ایران میں زیرِ تعلیم مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے طلبہ کی سلامتی کے لیے اقدامات کی یقین دہانی ملنے پر وزیرِ خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔ وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بتایا کہ انہوں نے ابھی ابھی وزیرِ خارجہ جے شنکر سے ایران میں بدلتی ہوئی صورتحال پر بات کی ہے۔
انہوں نے لکھا، ’’انہوں نے (ایس جے شنکر) مجھے زمینی صورتحال کے جائزے اور وزارتِ خارجہ کی جانب سے کیے جا رہے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔ میں شکر گزار ہوں کہ انہوں نے یقین دلایا کہ ایران میں جموں و کشمیر کے طلبہ اور دیگر افراد کی جان و مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔”
محبوبہ مفتی نے بھی فوری مداخلت کی اپیل کی
اس دوران سابق وزیرِ اعلیٰ اور حزبِ اختلاف کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی ایس جے شنکر اور وزارتِ خارجہ سے فوری مداخلت اور طلبہ کی محفوظ واپسی کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’کشمیر سمیت ملک بھر کے ہزاروں طلبہ موجودہ غیر مستحکم حالات کے درمیان ایران میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال سے پریشان والدین اپنے بچوں کی سلامتی کے حوالے سے شدید فکرمند ہیں، جس کے باعث خوف اور بے چینی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایس جے شنکر اور وزارتِ خارجہ سے گزارش ہے کہ فوری مداخلت کریں اور ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنائیں۔”
کافی تعداد میں کشمیری مسلمان ایران میں موجود
ایران میں ایم بی بی ایس سمیت مختلف کورسز میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی سب سے بڑی تعداد وادیٔ کشمیر سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر سے ہر سال بڑی تعداد میں شیعہ مسلمان ایران میں مختلف مسلم زیارت گاہوں اور تاریخی مقامات کی زیارت کے لیے بھی جاتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت بھی کافی تعداد میں کشمیری شیعہ مسلمان ایران میں موجود ہیں۔ حالانکہ، ایران کی موجودہ صورتحال کے بعد اہلِ خانہ میں اپنے عزیزوں کی سلامتی کے حوالے سے گہرا خوف اور تشویش پائی جا رہی ہے۔







