
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو پونگل کے موقع پر کاشی تمل سنگم اور سوراشٹر تمل سنگم جیسے اقدامات کی بڑھتی ہوئی کامیابی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ثقافتی اور فکری میل جول کے پروگراموں نے ’’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘‘ کے جذبے کو مزید گہرا اور مضبوط کیا ہے۔وزیرِ اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کہا کہ حال ہی میں #SomnathSwabhimanParv کے دوران سوم ناتھ کے دورے پر انہیں کئی ایسے افراد سے ملاقات کا موقع ملا جنہوں نے کاشی تمل سنگم اور سوراشٹر تمل سنگم جیسے اقدامات کی بھرپور ستائش کی۔ انہوں نے لکھا، ’’پونگل کے اس خصوصی موقع پر میں نے کاشی تمل سنگم کی ترقی اور اس کے ذریعے ’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘ کے جذبے کو تقویت ملنے پر اپنے خیالات شیئر کیے۔‘‘
اپنے سرکاری بلاگ میں وزیرِ اعظم مودی نے کاشی اور تمل عوام کے قدیم رشتے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے لکھا کہ کاشی کا تمل ثقافت اور عوام سے تعلق نہایت گہرا اور قدیم ہے۔ بابا وشوناتھ کا مسکن کاشی میں ہے جبکہ رامیشورم تمل ناڈو میں واقع ہے۔ اسی طرح تمل ناڈو کا تنکاسی ’’دکشن کاشی‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنت کماراگروپرار سوامیگل نے اپنی روحانیت، علمی خدمات اور ادارہ سازی کے ذریعے کاشی اور تمل ناڈو کے درمیان ایک مضبوط اور دائمی رشتہ قائم کیا۔
وزیرِ اعظم نے مہاکوی سبرامنیا بھارتی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تمل ناڈو کے اس عظیم سپوت کو کاشی میں فکری ارتقا اور روحانی بیداری کا ماحول ملا۔ یہیں ان کی قوم پرستی کو نئی جہت ملی، شاعری میں نکھار آیا اور ایک آزاد و متحد بھارت کا خواب مزید واضح ہوا۔ ان کے مطابق اس طرح کی کئی مثالیں کاشی اور تمل ثقافت کے گہرے تعلق کو اجاگر کرتی ہیں۔کاشی-تمل سنگم کا پہلا ایڈیشن 2022 میں منعقد ہوا تھا، جس کی افتتاحی تقریب میں وزیرِ اعظم خود شریک ہوئے تھے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اس موقع پر تمل ناڈو سے علماء، کاریگر، طلبہ، کسان، ادیب، پیشہ ور افراد اور دیگر طبقات کے لوگ کاشی، پریاگ راج اور ایودھیا آئے تھے۔ بعد کے ایڈیشنز میں اس کوشش کے دائرے اور اثر کو مزید وسعت دی گئی۔ 2023 کے دوسرے ایڈیشن میں ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا تاکہ زبان رکاوٹ نہ بنے، جبکہ تیسرے ایڈیشن میں بھارتی علم و دانش کے نظام پر خصوصی توجہ دی گئی۔
وزیرِ اعظم نے بتایا کہ کاشی تمل سنگم کا چوتھا ایڈیشن 2 دسمبر 2025 کو شروع ہوا، جس کا موضوع ’’تمل کارکلم – لرن تمل‘‘ رکھا گیا۔ اس کے ذریعے کاشی اور آس پاس کے علاقوں کے لوگوں کو خوبصورت تمل زبان سیکھنے کا نادر موقع ملا۔ تمل ناڈو سے اساتذہ آئے اور کاشی کے طلبہ کے لیے یہ تجربہ یادگار ثابت ہوا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قدیم تمل ادبی شاہکار ’’تولکاپیم‘‘ کا چار بھارتی اور چھ غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔وزیرِ اعظم نے سیج اگستیہ وہیکل ایکسپیڈیشن (SAVE) کا بھی ذکر کیا جو تنکاسی سے کاشی تک منعقد کی گئی۔ اس دوران طبی کیمپ، آنکھوں کے معائنے، صحت بیداری اور ڈیجیٹل خواندگی جیسے کئی سماجی اقدامات کیے گئے۔ اس مہم کے ذریعے عظیم پانڈیا حکمراں آدی ویرا پراکرما پانڈیا کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
وزیرِ اعظم مودی نے کہا کہ کاشی تمل سنگم میں نوجوانوں کی بڑے پیمانے پر شرکت انہیں سب سے زیادہ خوشی دیتی ہے، کیونکہ یہ ہماری یووا شکتی کے اپنے تہذیبی جڑوں سے جڑنے کے جذبے کی عکاس ہے۔ انہوں نے بھارتی ریلوے کی جانب سے تمل ناڈو سے اتر پردیش کے لیے چلائی گئی خصوصی ٹرینوں اور اتر پردیش کے عوام کی مہمان نوازی کی بھی تعریف کی۔آخر میں وزیرِ اعظم نے سنکرانتی، اتراین، پونگل اور ماگھ بیہو جیسے تہواروں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ملک کے عوام کو مبارکباد دی اور کہا کہ ایسے تہوار سماج میں ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو مضبوط کرتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مشترکہ وراثت اور اجتماعی شرکت کے ذریعے ’’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘‘ کا جذبہ مزید فروغ پاتا رہے گا۔







