
نئی دہلی: اناؤ عصمت دری کیس کی متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ اور خواتین کارکنوں نے جمعہ کے روز دہلی ہائی کورٹ کے باہر مظاہرہ کیا۔ یہ احتجاج سابق بی جے پی ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر کو دی گئی مشروط ضمانت کے خلاف کیا گیا، جسے مظاہرین نے انصاف کے منافی قرار دیا۔ مظاہرے کے دوران پولیس نے احتجاج کرنے والوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کے باہر مظاہرہ کرنا ممنوع اور غیر قانونی ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ پانچ منٹ کے اندر مظاہرہ ختم نہ کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے، جبکہ احتجاج کے لیے جنتر منتر جانے کا مشورہ دیا گیا۔

متاثرہ کی والدہ کا شدید رد عمل
متاثرہ لڑکی کی والدہ نے کلدیپ سنگھ سینگر کو دی گئی ضمانت کو مسترد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے پر اعتماد نہیں رہا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ انصاف کے لیے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گی۔ متاثرہ کی والدہ نے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’اس کی ضمانت منسوخ ہونی چاہیے۔ ہم سپریم کورٹ جائیں گے۔ ہمیں ہائی کورٹ پر بھروسہ نہیں رہا۔ اگر ہمیں سپریم کورٹ سے بھی انصاف نہیں ملا تو ہم کسی اور ملک جانے پر مجبور ہوں گے۔ میرے شوہر کے قتل کے ذمہ دار شخص کو فوراً پھانسی دی جانی چاہیے۔‘‘
خواتین کارکنوں کا مؤقف
خواتین کارکن یوگیتا بھایانہ نے کہا کہ وہ دہلی ہائی کورٹ امن کے ساتھ انصاف کا مطالبہ کرنے آئی ہیں اور چاہتی ہیں کہ متاثرہ خاندان کی درخواست پر جلد سماعت ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انصاف نہ ملا تو احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ یوگیتا بھایانہ نے کہا، ’’آج ہم ہائی کورٹ اس لیے آئے ہیں کہ ہماری بیٹی کے ساتھ ہوئی ناانصافی کو ختم کیا جائے اور ہماری درخواست پر سماعت ہو۔ اگر ہمیں انصاف نہیں ملا تو احتجاج کرنا ہمارا حق ہے۔‘‘

کانگریس کا عدالتی فیصلے پر اعتراض
کانگریس رہنما ممتاز پٹیل نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے خواتین کے اعتماد کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ملک میں ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے۔ ممتاز پٹیل نے کہا ’’یہ ایک بہت بڑا دھچکا ہے کہ کس طرح ہائی کورٹ نے تکنیکی بنیادوں پر سینگر کو راحت دی۔ اس فیصلے سے نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پورے ملک کی خواتین کا اعتماد مجروح ہوا ہے۔‘‘

کلدیپ سنگھ سینگر کو مشروط ضمانت
دہلی ہائی کورٹ نے اناؤ عصمت دری کیس میں سابق ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر کو ضمانت (سزا معطلی) دی ہے۔ سینگر کو دہلی کی سی بی آئی عدالت نے نابالغ لڑکی سے عصمت دری کے جرم میں قصوروار ٹھہرایا تھا اور وہ عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا۔ عدالت نے سینگر کو 15 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے کے عوض راحت دی ہے، تاہم وہ فی الحال جیل میں ہی رہے گا کیونکہ متاثرہ کے والد کی حراستی موت کے معاملے میں اسے ابھی ضمانت نہیں ملی ہے۔ اس کیس میں اسے دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور اس کی اپیل دہلی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
عدالت کی عائد کردہ شرائط
ہائی کورٹ نے ضمانت دیتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ کلدیپ سنگھ سینگر دہلی میں ہی مقیم رہے گا اور اس علاقے کے پانچ کلو میٹر کے دائرے میں داخل نہیں ہوگا جہاں متاثرہ رہتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ متاثرہ کے اہل خانہ سے کسی بھی قسم کا رابطہ نہیں کرے گا۔







