
جنوری 2026 میں مہاراشٹر میں میونسپل کارپوریشن الیکشن یعنی بی ایم سی الیکشن سمیت کئی میونسپلٹی کے الیکشن ہونے والے ہیں۔ اسی درمیان پرمود مہاجن کے بڑے بھائی اور مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) لیڈرپرکاش مہاجن نے شیوسینا کے سربراہ اورنائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق، پرکاش مہاجن جلد ہی شیوسینا میں شامل ہوسکتے ہیں۔ ایسی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ آج وہ راج ٹھاکرے کی ایم این ایس چھوڑسکتے ہیں۔
تھانے میں پرکاش مہاجن کے ذریعہ ایکناتھ شندے سے رسمی ملاقات کے بعد شیوسینا میں شامل ہونے کا امکان ظاہرکیا جا رہا ہے۔ ان کے شیوسینا میں شامل ہونے کے بعد ایم این ایس کو بڑا جھٹکا لگ سکتا ہے۔ اگرپرکاش مہاجن ایکناتھ شندے گروپ کی شیوسینا میں شامل ہوتے ہیں، تومراٹھ واڑہ علاقے میں پارٹی کی صورتحال مزید مضبوط ہونے کی امید ہے۔ ساتھ ہی انہیں شیو سینا میں کون سا اہم عہدہ سونپا جائے گا، اس پرسبھی کی نظریں مرکوزہوں گی۔
راج ٹھاکرے کو کتنا ہوگا نقصان؟
راج ٹھاکرے گزشتہ تین دہائیوں سے مہاراشٹرکی سیاست کا ایک اہم چہرہ رہے ہیں۔ اپنی انتخابی صلاحیت کے لئے مشہور، وہ اکثرانتخابی موسم میں سرخیوں کا حصہ رہتے ہیں۔ حالانکہ اسمبلی الیکشن میں اپنی پارٹی، مہاراشٹرنونرمان سینا (ایم این ایس) کی زبردست ہارکے بعد ان پرکئی طرح کے سوال اٹھ رہے تھے۔ اسی درمیان قیاس آرائی ہے کہ وہ ایک تجربہ کارلیڈرپرکاش مہاجن کواپنی پارٹی سے کھوسکتے ہیں۔ اگرپرکاش مہاجن ایم این ایس چھوڑتے ہیں تویہ ان کے لئے بڑا جھٹکا ہوگا اوراس کا نقصان بھی ہونے کا امکان ہے۔
ٹھاکرے برادران نے کیا اتحاد کا اعلان
راج ٹھاکرے نے اپنے چچازاد بھائی ادھوٹھاکرے کے ساتھ اسی بدھ (24 دسمبر، 2025) کواتحاد کا اعلان کیا تھا۔ پارٹی کے حالات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے ادھو ٹھاکرے کے ساتھ آنے کا فیصلہ لیا۔ ایک سال پہلے تک دونوں مہاراشٹر کی سیاست میں ایک دوسرے کے سخت دشمن کی طرح مانے جاتے تھے۔ راج ٹھاکرے نے 2005 میں شیو سینا (جو اب یوبی ٹی کا حصہ ہیں) چھوڑ دی تھی۔ اس کے بعد اس کے اگلے سال ہی ایم این ایس نام سے اپنی ایک نئی پارٹی بنائی۔ ایم این ایس نے 2009 میں اپنے پہلے اسمبلی الیکشن میں 13 سیٹیں جیتی تھیں اوراپنے چچا زاد بھائی ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا کے لئے ایک بڑا چیلنج پیش کیا تھا۔
موجودہ حالات میں ایم این ایس کی سیاسی صورتحال پہلے کی طرح نہیں رہ گئی ہے۔ اسمبلی الیکشن میں ہارکے بعد ایم این ایس کے پاس بی ایم سی الیکشن ایک بہتر موقع کی طرح دیکھ رہا ہے اوروہ اس موقع کوکسی بھی طرح سے جانے نہیں دینا چاہتی، اس لئے کافی وقت بعد انہوں نے اپنے چچازاد بھائی کے ساتھ رسمی طورپراتحاد کا اعلان کیا۔ تاہم اسی درمیان پرکاش مہاجن جیسے سینئرلیڈرکواگروہ پارٹی سے کھودیتے ہیں توان کے لئے یہ کافی بڑا نقصان پہنچا سکتا ہے۔







