
کرناٹک کے نائب وزیراعلیٰ اورکانگریس کے سینئر لیڈر ڈی کے شیوکمارپرانفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کا شکنجہ کستا جا رہا ہے۔ ای ڈی نے نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمارکوایک نوٹس جاری کرکے نیشنل ہیرالڈ معاملے سے متعلق جڑی اہم جانکاریاں طلب کی ہیں۔ یہ معاملہ تین اکتوبرکوکانگریس صدرسونیا گاندھی اورراہل گاندھی کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ 29 نومبرکوجاری اس نوٹس میں شیوکمارسے 19 دسمبرتک یا توانفرادی طورپرپیش ہونے یا مطلوبہ جانکاری فراہم کرانے کوکہا گیا ہے۔
نوٹس کے ذریعہ، ای اوڈبلیوکے تفتیش کاروں نے شیوکمارسے کئی تفصیلات طلب کی ہیں، جن میں ان کا ذاتی پس منظراورکانگریس پارٹی کے ساتھ روابط اوران کے یا ینگ انڈین کمپنی سے منسلک اداروں کے ذریعہ کی گئی فنڈز کی منتقلی کی تفصیلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بینک ٹرانسفرکا مقصد اوراِن فنڈس کے ذرائع کی تفصیل وغیرہ شامل ہیں۔ نوٹس کے بعد کرناٹک کے نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمارنے کہا کہ یہ میرے لئے بہت حیران کرنے والی بات ہے۔ میں نے ای ڈی کوتمام تفصیلات دے دی تھیں۔ ای ڈی نے مجھے اورمیرے بھائی کوبھی بلایا تھا۔ ہم نے سبھی نوٹس کا جواب دیا تھا۔ اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے، یہ ہمارا ادارہ ہے۔ ہم کانگریسی ہونے کے ناطے اس ادارے کی بھی حمایت کرتے ہیں، اس میں چھپانے جیسا کچھ نہیں ہے۔
پولیس کو کیس رجسٹرکرنے کی کیا ضرورت: ڈی کے شیوکمار
ڈی کے شیوکمار نے اے این آئی سے کہا، ”مجھے نہیں معلوم کہ ای ڈی کی چارج شیٹ فائل کرنے کے بعد بھی پولیس کوکیس رجسٹرکرنے کی کیا ضرورت تھی۔ ہم اس معاملے کولیں گے اورعدالت جائیں گے، یہ استحصال ہے۔“ انہوں نے مزید کہا، ”یہ ہمارا پیسہ ہے، ہم ٹیکس دینے کے بعد یہ پیسہ کسی کو بھی دے سکتے ہیں، جسے ہم چاہیں۔ اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔ پہلے ہی پی ایم ایل اے کیس ختم ہوچکا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا، ”انہوں نے پہلے ہی چارج شیٹ فائل کردی ہے، تووہ اورکیا کرسکتے ہیں؟ صرف سونیا گاندھی، راہل گاندھی اورسبھی حامیوں کوپریشان کرنے کے لئے وہ کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔“
نیشنل ہیرالڈ معاملہ کیا ہے؟
یہ معاملہ 2013 میں بی جے پی لیڈرسبرامنیم سوامی کی ایک نجی شکایت سے شروع ہوا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ایسوسی ایٹڈ جرنلزلمیٹڈ (اے جے ایل) کی 988 کروڑروپئے سے زیادہ کے اثاثوں کوینگ انڈین نامی کمپنی نے 2010 کے لین دین میں محض 50 لاکھ میں حاصل کرلیا تھا، جس میں کانگریس سینٹرل کمیٹی (اے آئی سی سی) بھی شامل تھی۔ دہلی پولیس کا ای او ڈبلیو، جوکہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی ایک شکایت کی بنیاد پراس معاملے میں ایف آئی آردرج کرکے مجرمانہ سازش، دھوکہ دہی اورسی بی آئی مجرمانہ اعتماد کی خلاف ورزی کے الزامات کی تحقیقات کررہی ہے۔ ینگ انڈین میں مبینہ طورپرسونیا گاندھی اورراہل گاندھی کے مشترکہ 76 فیصد حصہ داری بتائی جارہی ہے۔ وہیں ڈی کے شیوکمارکے قریبی ذرائع نے الزام لگایا کہ حکومت ای ڈی کے ذریعہ ان پردباوبنانے کی کوشش کررہی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ڈی کے شیوکماربی جے پی سے تال میل نہ بیٹھنے کی وجہ سے نشانے پرہیں اوریہ ظاہرکرتا ہے کہ وہ کانگریس کے اہم لیڈران میں سے ہیں، جو چوٹ جھیل رہے ہیں۔






