
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور مرکزی حکومت کے درمیان تناؤ ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ حال ہی میں راشٹرپتی بھون میں منعقد ہونے والی ڈنر پارٹی میں بھی راہل گاندھی کو مدعو نہیں کیا گیا۔ پارٹی کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں ہے، اس سے قبل بھی حکومت کی جانب سے راہل گاندھی کے ساتھ اسی طرح کا برتاؤ کیا جاتا رہا ہے۔ کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ چلی کے صدر کے اعزاز میں ہونے والے صدارتی ڈنر میں بھی راہل گاندھی کو دعوت نہیں دی گئی، حالانکہ وہ ایوانِ زیریں میں قائد حزب اختلاف ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف اپوزیشن بلکہ جمہوری اقدار کی بھی توہین ہے۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے اعزاز میں جمعہ کی رات راشٹرپتی بھون میں عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور پارٹی صدر ملکارجن کھرگے کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ کانگریس ایم پی ششی تھرور کو مدعو کیا گیا تھا۔
اس سے قبل جمعہ کی شام جب پی ٹی آئی نے ششی تھرور سے راہل اور کھرگے کو دعوت نہ دیے جانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا، “میں دعوت ناموں کی بنیاد نہیں جانتا، لیکن میں اس تقریب میں ضرور شرکت کروں گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کو مدعو نہ کرنا درست نہیں ہے۔”
حکومت غیر ملکی رہنماؤں سے ملاقات بھی نہیں کرنے دیتی: کانگریس
کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ صرف ڈنر کی بات نہیں، حکومت راہل گاندھی کو غیر ملکی رہنماؤں سے ملاقات کرنے سے بھی روکتی ہے۔ کانگریس کے مطابق اب تک 37 ممالک کے سربراہان بھارت آئے ہیں، لیکن ان میں سے صرف 4 سے راہل گاندھی کی ملاقات کرائی گئی۔ پارٹی اس معاملے پر بڑے پیمانے پر حکومت کے خلاف تحریک چلانے کی تیاری میں ہے۔
راہل کے الزام پر وزارت خارجہ کا جواب
اس سے قبل راہل گاندھی نے کہا تھا کہ مودی حکومت نہیں چاہتی کہ غیر ملکی رہنما اپوزیشن لیڈر سے ملیں۔ ان کے بیان کے بعد وزارت خارجہ نے ایک فہرست جاری کی تھی، جس میں راہل گاندھی کی غیر ملکی رہنماؤں سے ہوئی ملاقاتوں کی تفصیلات شامل تھیں۔
اب کانگریس نے نیا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ صدارتی ڈنر میں دعوت نہ دینا حکومت کی جانبداری کا ثبوت ہے۔







