
ریلوے نے ٹرینوں کی وقت کی پابندی بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں مالی سال 2025-2026 (اپریل–اکتوبر) کے دوران میل/ایکسپریس ٹرینوں کی مجموعی پنکچوئلیٹی 80 فیصد رہی۔ گزشتہ مالی سال 2024-2025 میں یہ شرح 77.12 فیصد تھی۔ ریلوے کے وزیر اشوینی ویشنو نے 3 دسمبر 2025 کو لوک سبھا میں تحریری جواب دیتے ہوئے بتایا کہ اس سال ٹرینوں کی وقت کی پابندی میں واضح بہتری دیکھی گئی ہے۔ انہوں نے ایم پی حضرات کے اُن سوالات کا جواب دیا، جن میں گزشتہ سال میل، ایکسپریس اور پسنجر ٹرینوں کی کارکردگی اور تاخیر کی وجوہات سے متعلق تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔
ٹرینوں میں تاخیر کی بنیادی وجوہات
وزیر کے مطابق ٹرینوں کے لیٹ ہونے کی چند اہم وجوہات یہ ہیں:دھند اور خراب موسم، روٹ میں راستہ دستیابی کی مشکلات (Path Constraints)،اثاثوں کی مرمت اور مینٹیننس، الارم چین پلنگ، احتجاجی مظاہرے اور رکاوٹیں،مویشیوں کے پٹری پر آنے کے واقعات،دیگر غیر متوقع حالات۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کی پوری کوشش ہے کہ ٹرینیں وقت پر چلیں اور اس کے لیے مختلف اصلاحاتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
نئی ٹرین سروسز شروع کرنے کے معیار
کسی بھی سیکشن یا روٹ پر نئی ٹرین سروس شروع کرنے کے لیے درج ذیل عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے:اس سیکشن کی موجودہ گنجائش،ٹرین کے لیے راستہ دستیابی،مطلوبہ رولنگ اسٹاک کی دستیابی،متعلقہ انفراسٹرکچر کی دستیابی،پٹری اور آلات کی مینٹیننس کی ضروریات
ممبئی–احمدآباد بلیٹ ٹرین منصوبہ
وزیر نے بتایا کہ ممبئی–احمدآباد ہائی اسپیڈ ریل (HSR) منصوبہ، جس کی لمبائی 508 کلومیٹر ہے، حکومتِ جاپان کی تکنیکی اور مالی معاونت سے زیرِ تعمیر ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہائی اسپیڈ ریل منصوبے انتہائی سرمایہ طلب ہوتے ہیں، اور نئے منصوبوں کی منظوری تکنیکی اہلیت، مالی و اقتصادی رفتار، ٹریفک ڈیمانڈ، اور فنڈنگ و فنانسنگ کے ذرائع کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ریلوے کی یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ ٹرینوں کی وقت کی پابندی میں بہتری اور جدید ریل منصوبوں کی رفتار بڑھانے کے لیے حکومت مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔







