
پاکستان کی سیاست اس وقت شدید بے یقینی، الزام تراشی اور سیاسی کشمکش کا شکار ہے۔ اسی دوران سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی سوچ نہایت سخت اور شدت پسندانہ ہے، جو بھارت کے حوالے سے خاص طور پر غیر لچکدار اور hostile رویہ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ طرزفکر پاکستان کی سیاست کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے۔ علیمہ خان نے اسکائی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ آرمی چیف خطے میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات کو فروغ دیتے ہیں، اور جو بھی ان کی حکمتِ عملی یا سوچ سے اختلاف کرے، اسے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسے فیصلوں کی وجہ سے ملک میں سیاسی بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
عمران خان بھارت سے بہتر تعلقات کے خواہشمند تھے
علیمہ خان کے مطابق عمران خان ہمیشہ بھارت کے حوالے سے مثبت مؤقف رکھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے متعدد بار بھارت سے مذاکرات کی کوشش کی اور بھارتی قیادت، خصوصاً بی جے پی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی سمت میں قدم بڑھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی پاکستان میں سخت گیر سوچ رکھنے والا حکمران آتا ہے، بھارت مخالف بیانیے کو ہوا دی جاتی ہے۔
عمران خان کے بیٹوں کی تشویش
سابق وزیراعظم کے بیٹے قاسم خان اور سلیمان خان نے بھی حال ہی میں شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے والد کی جان کے حوالے سے سخت خوف ہے۔ دونوں نے الزام لگایا کہ حکام عمران خان کی صحت اور جیل کی صورتحال کے بارے میں ضروری معلومات فراہم نہیں کر رہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 47 دنوں سے انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں موجود عمران خان کی حالت کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔
عمران خان کا جیل سے ردعمل
جیل سے جاری اپنے پیغام میں عمران خان نے جنرل عاصم منیر پر براہ راست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف پاکستان کی سیاست کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں اور ملک کے موجودہ بحران کے بڑے ذمہ دار وہی ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ انہیں جس طرح کے دباؤ اور اذیت سے گزارا جا رہا ہے، وہ کسی بھی جمہوری ملک میں ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جیل میں ان کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ،تو اس کی پوری ذمہ داری آرمی چیف پر عائد ہوگی۔







