جموں و کشمیر کے پہلگام میں 22 اپریل 2025 کو ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کا ماحول ہے۔ اس حملے میں کئی بے گناہ شہریوں کی جانیں چلی گئیں قومی یکجہتی کے اظہار کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مضبوط اور متحد قدم اٹھائے۔ اس درمیان کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کی رسمی مانگ کر دی ہے۔
کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم کو خط لکھتے ہوئے کہا ہے کہ “اس وقت یکجہتی اور اتحاد کی شدید ضرورت ہے۔ اپوزیشن کا ماننا ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا ایک خصوصی اجلاس جلد از جلد بلایا جانا چاہیے۔ یہ پہلگام میں 22 اپریل کو ہوئے بربریت والے دہشت گردانہ حملے سے نمٹنے کے لیے ہماری اجتماعی قوت ارادی کا مظاہرہ ہوگا۔”
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بھی وزیر اعظم کو خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے کہا: “پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے نے ہر ہندوستانی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس نازک وقت میں ہندوستان کو دنیا کو دکھانا ہوگا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف ہمیشہ متحد کھڑے ہیں۔ اس لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا خصوصی اجلاس بلایا جانا چاہیے تاکہ عوامی نمائندے یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔”
اس سے قبل بھی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ کانگریس دیگر اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر حکومت پر دباؤ بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق کانگریس دیگر جماعتوں سے رابطے میں ہے تاکہ حکومت سے سخت سوالات کیے جا سکیں۔ سی پی آئی کے راجیہ سبھا رکن سندوش کمار نے بھی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ’’پہلگام حملہ نہ صرف متاثرین کے خاندانوں کے لیے تکلیف دہ ہے بلکہ اس نے ملک کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس وقت پارلیمنٹ کو قوم کے جذبات کی ترجمانی کرنی چاہیے۔‘‘
اس مسئلہ پر کانگریس کے سینئر رہنما طارق انور نے بھی اپنی رائے دی۔ ان کا کہنا تھا: “میری ذاتی رائے میں پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا جانا چاہیے کیونکہ اس دہشت گردانہ حملے میں کئی بے گناہوں کی جان چلی گئی ہے، اور اس کے بعد حکومت کا ردعمل مایوس کن رہا ہے۔”
اپوزیشن کا ماننا ہے کہ اس حملے کے بعد ملک کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہوکر ایک مضبوط پیغام دینا چاہیے، اور اس کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس سب سے مؤثر پلیٹ فارم ہو سکتا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا حکومت اپوزیشن کی اس مانگ پر غور کرتی ہے یا نہیں۔