
نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا اتحاد نے دہلی کے بارہ کھمبا سے سپریم کورٹ تک مارچ کیا۔ اس مارچ میں سینئر وکیل اور کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ ابھیشیک منو سنگھوی بھی شامل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا اتحاد کی تمام جماعتیں سپریم کورٹ میں عرضی داخل کریں گی۔سنگھوی نے کہا، ’’یہ کوئی احتجاجی مارچ نہیں ہے، بلکہ ہم اصولی معاملے پر آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق، تمام جماعتیں اس معاملے میں سپریم کورٹ سے رجوع کریں گی۔
سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرنے کی تیاری
ذرائع کے مطابق، کانگریس لیڈر راہل گاندھی اپنے کچھ ساتھی لیڈرؤں اور وکلا کے ساتھ سپریم کورٹ کے احاطے میں واقع عرضی جمع کرنے کے کاؤنٹر پر جا کر عرضی داخل کرسکتے ہیں۔ اس سے پہلے کانگریس کے دفتر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا تھا کہ وہ انڈیا اتحاد کے لیڈرؤں کے ساتھ سپریم کورٹ جائیں گے اور مشترکہ طور پر عرضی داخل کریں گے۔ راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ دینے اور سرکاری گواہ بننے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر سے غلطی ہوئی ہے اور اس کے پیچھے ان کی اپنی سوچ نہیں تھی۔ راہل گاندھی کے مطابق، اپوزیشن کی لڑائی ان طاقتور عناصر کے خلاف ہے جو ان کے بقول چیف الیکشن کمشنر کے پیچھے ہیں۔
چیف جسٹس نے ملاقات کی تجویز مسترد کردی
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے انڈیا اتحاد کے لیڈرؤں کے ساتھ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت سے ملاقات کے لیے خط لکھا تھا، لیکن چیف جسٹس نے ملاقات کی تجویز مسترد کردی۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اس معاملے کی سماعت کے لیے تیار ہے اور جب معاملہ عدالت میں زیرِ غور ہو تو اس سلسلے میں ملاقات کرنا مناسب نہیں ہوگا۔خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ چیف جسٹس نے راہل گاندھی سے کہا ہے کہ وہ عدالتی طریقۂ کار کے تحت عرضی داخل کریں۔ اس معاملے پر منگل کو سماعت ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
’سپریم کورٹ کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں‘
چیف جسٹس سوریہ کانت نے قائد حزب اختلاف سے ملاقات کے معاملے پر کہا کہ سپریم کورٹ کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نمائندے ہوں یا عام شہری، عدالت سب کے حقوق کا تحفظ کرے گی۔انڈیا اتحاد کا یہ مارچ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات اور انتخابی عمل سے متعلق مطالبات کے پس منظر میں کیا گیا۔





