
نئی دہلی : سبزیوں کے حوالے سے اکثر یہ باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ دو مخصوص سبزیوں کو ایک ساتھ کھانے سے گردے میں پتھری بن جاتی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق ہر ایسی بات درست نہیں ہوتی۔ گردے میں پتھری بننے کا معاملہ صرف دو سبزیوں کو ایک ساتھ کھانے سے طے نہیں ہوتا، بلکہ اس میں پانی کی کمی، خوراک کی عادات، جسم میں کیلشیم اور آکسیلیٹ کا توازن، زیادہ نمک کا استعمال اور دیگر عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
کیا سبزیاں کھانے سے پتھری بنتی ہے؟
عام طور پر کسی خاص دو سبزیوں کو ایک ساتھ کھانے سے گردے میں پتھری بننے کا کوئی براہِ راست سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے۔ گردے کی پتھری کئی وجوہات کی بنا پر بن سکتی ہے۔ اس کی سب سے عام قسم کیلشیم آکسیلیٹ اسٹون ہے۔ آکسیلیٹ قدرتی طور پر بعض غذاؤں میں پایا جاتا ہے۔اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ دو مخصوص سبزیاں ایک ساتھ کھاتے ہی پتھری بن جائے گی۔ کسی فرد میں پتھری کا خطرہ اس کی مجموعی خوراک، پانی کی مقدار اور جسمانی حالت پر منحصر ہوتا ہے۔
کن سبزیوں میں آکسیلیٹ زیادہ ہوتا ہے؟
پالک میں آکسیلیٹ کی مقدار نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ جن افراد کو کیلشیم آکسیلیٹ کی پتھری بننے کا مسئلہ رہتا ہے، انہیں زیادہ آکسیلیٹ والی غذاؤں کا استعمال محدود کرنے کا مشورہ دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر شخص پالک کھانا بالکل چھوڑ دے۔کچھ دیگر سبزیوں اور غذاؤں میں بھی آکسیلیٹ موجود ہوتا ہے۔ یہاں اس کی مقدار اور فرد کی صحت کی صورتحال زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کسی شخص کو پہلے گردے میں پتھری ہو چکی ہے تو اسے اپنی خوراک کے بارے میں ڈاکٹر یا ماہر غذائیت سے مشورہ کرنا چاہیے۔
پتھری سے بچنے کے لیے کیا ضروری ہے؟
گردے کی پتھری سے بچاؤ کے لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ کون سی سبزی کس کے ساتھ کھائی جا رہی ہے۔ مناسب مقدار میں پانی پینا سب سے اہم اقدامات میں شامل ہے۔ پانی کی کمی سے پیشاب زیادہ گاڑھا ہو سکتا ہے اور اس میں موجود بعض مادے کرسٹل کی شکل اختیار کرکے پتھری کا سبب بن سکتے ہیں۔اس کے علاوہ خوراک میں نمک کی زیادہ مقدار بھی گردے کی پتھری کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ اس لیے نمک کا استعمال محدود کرنا اور دن بھر مناسب مقدار میں پانی پینا ضروری ہے۔
ہر شخص کے لیے ایک ہی غذا کا اصول نہیں
اگر کسی فرد کو پہلے گردے میں پتھری ہو چکی ہے تو اس کی خوراک کا تعین اس بات پر بھی منحصر ہوگا کہ پتھری کس قسم کی تھی۔ اس لیے انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ’’یہ دو سبزیاں کبھی ساتھ نہ کھائیں‘‘ جیسی باتوں پر آنکھ بند کرکے یقین کرنا درست نہیں۔سبزیاں مجموعی طور پر صحت مند غذا کا اہم حصہ ہیں۔ بلاوجہ کئی سبزیوں کو خوراک سے نکالنے کے بجائے اپنی صحت، سابقہ طبی رپورٹس اور پتھری کی نوعیت کے مطابق ڈاکٹر یا ماہر غذائیت سے مناسب مشورہ لینا زیادہ بہتر ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






